جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے |
|
عیسائی نے کہا: امیر المومنین! زیادہ بن حدیر مجھ سے بار بار عشر مانگتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ عشر سال میں تیرے مال پر صرف ایک دفعہ ہے۔ کتاب الخراج امام ابویوسف ص162 اب اگر امام صاحب نے فرما دیا کہ لا بأس بان یدخل اہل الذمۃ المسجد الحرام ہدایہ ج4 ص472 تو یہ قرآن کی آیت”یدخلوھا الا خائفین“ کے موافق ہے۔ اﷲ کے نبیعلیہ الصلوۃ والسلام کے فعل کے موافق ہے، اﷲ کے نبیعلیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی رضی اللہ تعالی عنہکے مطابق ہے اور یہ داخلہ آیت توبہ کے خلاف نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے زمانہ میں مجمع عام میں نصرانی حرم پاک میں داخل ہوا کسی ایک شخص نے بھی اٹھ کر آیت”انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام“ پڑھ کر نہ سنائی۔ معلوم ہو گیا کہ ان سب صحابہ و تابعین کے نزدیک بھی کسی ذمی کا وقتی طور پر مسجد حرام میں داخلہ کسی آیتیا حدیث کے خلاف نہ تھا۔ جو مسئلہ ان صحابہ و تابعین کو سمجھ نہ آیا معلوم نہیں طالب الرحمن صاحب نے کس استاد سے سیکھ لیا؟