میرے عزیزو! یہ سچ ہے کہ معاش کا بحران انسان کو بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار رہا ہے ، ہر شخص پیٹ کا نعرہ لگارہا ہے ، معاشرہ حصولِ معاش کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان اس طرح پس رہا ہے کہ اس کو اپنے دین وایمان کا ہوش ہی باقی نہ رہا ، یہ مسئلہ اگر صرف ان تک محدود ہوتا جو خدا کی لا محدود قوت پر ایمان نہیں رکھتے تو چنداں قابل تعجب نہ ہوتاکہ ان کا دستور فطرت یہی ہے ، لیکن مصیبت تو یہ ہے کہ اس آتش سوزاں میں وہ لوگ بھی دھڑادھڑ اپنا خرمن ایمان ویقین پھینک پھینک کر جلا رہے ہیں جن کو خدا کی عظیم قوتوں پر بھروسہ کا دعویٰ ہے ۔ اس مصیبت کو کس سے کہوں کہ گھر کاسرمایہ لٹ رہا ہے ، تجوریوں پر ڈاکہ پڑرہا ہے ، جائیداد برباد ہورہی ہے اور ہم برتنوں ، سوئی دھاگوں کی حفاظت کی فکر کررہے ہیں ، یہ کس درجہ غم واندوہ کی بات ہے ، یہ تو یقین ہے کہ جو اﷲ طوفان کے ہیجان خیز تھپیڑوں میں سے ایک شیرخوار بچے کو نکال لے جانے والا ہے وہ اپنے ملت ومذہب کو بچا لے گا ، مگر سوچو ہمارا تمہارا کیا حشر ہوگا ، کس کو ہم منہ دکھا سکیں گے ۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حصول علم سے نیت وعزم محض خدمت دین ہونی چاہئے یقین کا سرمایہ ساتھ رکھو ، حطامِ دنیا تو جوتیوں میں آکر پڑا رہے گا ، تم لوگ جس علاقے کے رہنے والے ہو جہاں تک میرا اندازہ ہے اس میں خالص مجاہدقسم کے علماء کی حاجت ہے اور تم لوگ ایک بہت بڑی ذمہ داری اپنے سر لے رہے ہو ، اس لئے ہر قسم کی دنیاوی آلائش سے پاک ہوکر تحصیل علم کی ضرورت ہے ، میری بڑی تمنا یہ ہے کہ میں اپنے شاگردوں کو دین پر قربان ہوتا ہوا دیکھوں ، اس سلسلے میں ہر طرح کی مدد وتعاون کے لئے تیار ہوں ، انشاء اﷲ آخر دم تک تم لوگ مجھے اپنا رفیق پاؤگے ۔
عزیزانِ من ! کیا بتاؤں امیدوں کے سہارا آج کے نوجوان طلباء ہی ہیں ، لیکن جگر کٹ کر ٹکڑے ہوجاتا ہے جب ان کا رُخ دین مصطفی سے پھرا ہوادیکھتا ہوں ، امید ہے کہ تم لوگ میرے درد کو سمجھو گے۔‘‘( حدیث دوستاں ص:۲۴۴)
ہر انسان کا عموماً اور ہر مسلمان کا خصوصاً فرضِ اولین ہے کہ وہ اپنے مالک ومعبود اور خالق ومربی کی رضا اور خوشنودی کے لئے کوشاں رہے ، عشاق اپنے محبوب کے لئے جان کی بازی لگادینا آسان سمجھتے ہیں ، خدا کی رضا کے لئے اگر جان کی بازی لگائی جائے تو عین مناسب ہے کہ ہر مسلمان نے کلمۂ توحید پڑھ کر خدا سے عہد وفا باندھا ہے کہ خدایا! ہم آپ کی اطاعت کریں گے ، اور طالب علم نے تو مدرسہ میں داخل ہوکر اور وراثت نبوی کو حاصل کرنے کی نیت کرکے اس عہد وپیمان کی تجدید کی ہے ، اسے تو ہر وقت اپنا یہ عہد وپیمان مستحضر رکھنا چاہئے ، اس کی کوتاہی عجب نہیں کہ ناقابل معافی جرم بن جائے ، ہر وقت دیکھ