باغوں میں لازوال زندگی کی خوشی سے بہرہ یاب ہو۔
ایمان والو! عقل کا یہ معیار اﷲ نے قائم کیا ہے ، جو ساری کائنات کے خالق ومالک ہیں ، دنیا وآخرت سب انھیں کے قبضہ اقتدار میں ہیں ، پس فکر دنیا کو اپنا محور ومقصود نہ بناؤ ۔ ایک ہمت مردانہ درکار ہے ، اس کی الجھنوں کو توڑ کر نکل جاؤ ، اﷲ کی اطاعت کرواور ان کے وعدہ پر یقین کرو، آخرت بھی درست ہوگی اور دنیا بھی خدمت گزار ہوگی ۔ دنیاوالوں کی غلطی یہ ہے کہ ’’ حیٰوۃ دنیا ‘‘ کو اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے اور آخرت کو فراموش کردیا ہے۔ ایمان والو! تم یہ غلطی نہ کرو، نگاہ انحصار آخرت پر ہو، اس کی کامیابی پر ہو ، دنیا اس کے ضمن میں ہوگی،تو بابرکت ہوگی ، خادم ہوگی ، اور اگر اس کو اس کے مقام سے ہٹایاتو وجودِ انسانی کو کھا جائے گی۔ ایمان کا چراغ بجھادے گی، پھر دنیا بھی اندھیری اور آخرت بھی تاریک! أَعَاذَنَا اﷲُ مِنْھَا،رَبَّنَاآتِنَافِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(اگست ۲۰۰۹ء)
ؤؤؤؤؤ