ماہی ’’ المآثر‘‘ کا اجرا ہوا ، اور اس کی تحریر کا شعبہ اس خاکسار کے سپرد ہوا ۔ ہرتین ماہ پر اس کے لئے مضمون کا شدید تقاضا ہوتا اور میں مجبوراً لکھتا ، یہ سلسلہ چلتا رہا۔ میرے دوست مولانا عبد الرب صاحب اعظمی مدظلہ نے اپنے مدرسہ انوار العلوم جہانا گنج سے ایک ماہانہ رسالہ ’’ انوار العلوم ‘‘ کے نام سے جاری کیا ، اس کے لئے بھی اداریہ لکھنے کی ذمہ داری اس خاکسار کے سپرد کی ، مگر اس کی عمر کم تھی ، سال بھرنکلا اور بند ہوگیا۔ اس کے بند ہونے کے بعد میرے بعض احباب کا تقاضا ہوا ، خاص طور سے عزیز موصوف مولانا ضیاء الحق صاحب کا ، کہ ’’ انوار العلوم ‘‘ کے طرز پر ایک ماہنامہ نکالنا چاہئے ، جس میں عام فہم دینی واصلاحی مضامین ہوں ، المآثر کا علمی معیار خاصا بلند ہے ، اس سے اہل علم ہی استفادہ کرسکتے ہیں ، عامۃ الناس کے ذوق اور فہم کی چیزیں اس میں نہیں ہوتیں ، اس لئے انوار العلوم کے معیار کے ایک رسالہ کی اشاعت ہونے چاہئے ، اس کے لئے نگاہیں مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور پر جمیں ۔ یہاں سے ابتداء ً ’’الاسلام‘‘کے نام سے پھر گورنمنٹ کی منظوری کے بعد ’’ضیاء الاسلام ‘‘ کے نام سے ایک ماہانہ رسالہ کا اجرا ہوا ، اس رسالہ نے اور اس کے مدیر مولانا حافظ ضیاء الحق خیرآبادی سلّمہ نے تحریر کے ایک گونگے کو قلم کی زبان عطا کی ۔ ان رسالوں میں میرے مضامین مسلسل نکلتے رہے ، جن کے مجموعوں سے مدیر موصوف نے دسیوں کتابیں بنائیں ۔
اب خیال ہوا کہ ان جرائد وصحائف کے اداریوں کو اکٹھا کردیا جائے ، تو اچھا خاصا مجموعہ تیار ہوجائے گا ، چنانچہ عزیز موصوف اداریوں کے جمع وتدوین میں لگ گئے ، اور اس سلسلے کی اب تک کی تحریروں کو انھوں نے یکجا کردیا ،انھو ں نے نظر ثانی کے لئے میرے حوالے کیا ۔ میں نے از سر نوانھیں جب مسلسل پڑھا تو ذہن میں یہ خیال جما کہ یہ مضامین اگرچہ مختلف اوقات میں مختلف تقاضوں اور مختلف پس منظر میں لکھے گئے ہیں ، مگر روح سب کی ایک ہے ۔ اوروہ ہے ، اس بات کی تڑپ کہ اہل ایمان اپنے نفس ، اپنی طبیعت اور اپنے گرد وپیش کے مختلف تقاضوں کو فنا کرکے ، ان سے منہ موڑ کر محض اﷲ ورسول کی اطاعت ووابستگی کے لئے یکسو ہوجائیں ۔ زندگی کا مرکز ومحور صرف وہ ہو جس کی دعوت اﷲ کے آخری