بھال رکھنی ضروری ہے ، ہمارے مورثِ اعلیٰ سید الموجودات سرور کائنات فخر بنی آدم سیدنا ومولانا حضرت محمد رسول اﷲ فداہ ابی وامی وروحی وقلبی علیہ الف الف تحیۃ وصلوۃ ہیں ، آپ ہمارے روحانی باپ ہیں ، جن کا ترکہ حاصل کرنا ہے ، پھر ؎
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو پھر پسر قابل میراثِ پدر کیونکر ہو
اگر ان سے ہماری نسبت اور ہمارا رشتہ منقطع ہوگیا تو یقینا ہم ترکہ پانے سے محروم رہیں گے ۔ دیکھو وارث اور مورث کے دین میں تباین ہو ، یا وارث نے مورث کو قتل کردیا ہوتو وہ اپنے حق سے محروم کردیا جاتا ہے ، بس یوں ہی سمجھ لو کہ حضرت رسول مقبول ا کا دین اور طریقہ تو اﷲ تعالیٰ کی اطاعت وخوشنودی کا حصول ہے ، اگرہم نے اپنا مذہب نافرمانی بنالیا یا کم از کم فرمانبرداری کی لگن سے ہم خالی ہوگئے تو طریقہ بدل گیا ، یا اگر ہم نے آپ کی سنتوں اور طریقوں کو ترک کرنا اپنا دستور بنالیا یا کم از کم ان کا اہتمام باقی نہیں رکھا تو ہم ……معاذ اﷲ سوبار اﷲ کی پناہ! أعاذنا اﷲ منہ وسائر المسلمین…… آپ کی لائی ہوئی شریعت کے قاتل ثابت ہوں گے ، سوچو کیسی محرومی کی بات ہے ، کیا اس کے بعد بھی آپ کا ترکہ ہمیں ملے گا ۔
دیکھو یہ سطریں لکھتے ہوئے میرا دل کانپ گیا ، بے اختیار آنکھیں ڈبڈبا گئیں ، کیا ہم نے اپنے آپ کو اس سطح پر اتار لیا ہے ، جہاں ہم کو اس طرح خطاب کیا جائے ؟ اﷲ سے توفیق مانگو ، استعاذہ کرو ، اللٰھم نسألک علماً نافعاً ورزقاً طیباً وعملاً متقبلاً ونعوذبک من علمٍ لا ینفع وقلبٍ لایخشع ومن دعوۃٍ لا یستجاب لھا (اے اﷲ! ہم آپ سے سوال کرتے ہیں علم نافع کا ، رزق پاکیزہ کا ، عمل مقبول کا اور ہم آپ کی پناہ میں آتے ہیں ایسے علم سے جو نافع نہ ہو ، ایسے قلب سے جو خشوع سے خالی ہو، اور ایسی دعا سے جو قبولیت سے محروم ہو )( حدیث دوستاں ص:۳۰۷)
اخلاص وللٰہیت اور درد وسوز میں ڈوبے ہوئے یہ کلمات وحروف آپ نے ملاحظہ فرمالئے!یہ اس استاذ ومربی کی صدائے درد ِدل ہے، جو اپنے تلامذہ ومتعلقین کے بارے میں چاہتا ہے کہ وہ اﷲ کے مخلص بندے ، رسول کے سچے امتی، شریعت الٰہی کے علمبردار اور دین متین کے صحیح حامل وپاسدار بنیں ، اسی کے لئے اس نے اپنی زندگی تج دی ، اسی محنت وکوشش میں وہ جوانی سے کہولت اور اب بڑھاپے کی سرحد کی داخل ہورہا ہے۔جس کے دل میں یہ تڑپ اور تقاضا ہمہ وقت موج زن رہتا ہے کہ ’’ اہل ایمان اپنے نفس ، اپنی طبیعت اور