اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کندھے پررکھی ہوئی چادرباربارپیچھے زمین پرگرجاتی…حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ وہ چادراٹھاکرآپؐ کے کندھوں پرڈالتے…اورپھرتھوڑی ہی دیرمیں وہ چادر دوبارہ زمین پرگرجاتی…مسلسل یہی کیفیت جاری تھی… ایسے میں ایک باراسی دعاء وفریادکے دوران جب آپؐ نے اتفاقاً پلٹ کراپنے ساتھیوں کی جانب نگاہ ڈالی…توسامنے ایک بالکل ہی نوعمرلڑکے کوکھڑاہواپایا…جوکہ آپؐ کے ساتھ کچھ بات کرناچاہتاتھا،کچھ کہناچاہتاتھا،اس لڑکے کی عمرابھی تیرہ سال مکمل نہیں ہوئی تھی،تیرہواں سال چل رہاتھا، اس کے اندازسے سمجھداری ٗ خوب دانشمندی ٗاورفہم وفراست جھلک رہی تھی،اس کے سراپاسے اورحلئے سے خاندانی شرافت ونجابت ظاہر ہو رہی تھی۔ اس نوجوان نے اپنے ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوارتھام رکھی تھی،دیکھنے والوں کویہ منظربڑاہی عجیب محسوس ہورہاتھا،کیونکہ اس کی یہ تلوارخوداس کے اپنے قدسے بھی بڑی تھی… رسول اللہﷺ کی نگاہ جب اس نوعمرپر پڑی تواس نے موقع غنیمت جانا،اورآپؐکے قریب پہنچ کربڑی ہی معصومیت کے ساتھ یوں کہنے لگا’’اے اللہ کے رسول!میں آپ پر قربان،مجھے اجازت مرحمت فرمائیے کہ میں آپ کے جھنڈے تلے اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطردشمنوں کے خلاف لڑی جانے والی اس اولین جنگ میں شرکت کرسکوں‘‘ اس کی معصومیت اوریہ بیساختہ پن دیکھ کر…نیزاس کی یہ برجستہ گفتگوسن کر…آپؐ بہت زیادہ متأثرہوئے،اورشفقت بھری نگاہو ںسے اس کی جانب دیکھنے لگے،اور پھر پیار سے اس کاکندھاتھپتھپاتے ہوئے آپؐ نے اس وقت اسے واپس چلے جانے کی ہدایت کی،اورتسلی دیتے ہوئے یوں فرمایا’’برخوردار!ابھی تم بہت چھوٹے ہو،البتہ آئندہ