اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
تعلیمات کی نشرواشاعت میں مشغول ومنہمک تھا۔ نبوت کے اس جھوٹے مدعی کی طرف سے برپاکردہ اس فتنے کی شدت کااندازہ اس بات سے کیاجاسکتاہے کہ اس کی سرکوبی کی غرض سے ’’یمامہ‘‘کے مقام پرجوجنگ لڑی گئی اُس میں شہیدہونے والے مسلمانوں کی تعدادایک ہزارسے زائدتھی …ظاہرہے کہ ان میں بہت بڑی اکثریت حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی ،کیونکہ رسول اللہﷺ کی رحلت کے محض چندماہ بعدہی یہ جنگ پیش آئی تھی۔ اس اتنے بڑے نقصان کے علاوہ بالخصوص جوبات تمام مسلمانوں کیلئے بہت زیادہ اضطراب اورتشویش کاباعث بنی ٗوہ یہ کہ اس موقع پراتنی بڑی تعدادمیں شہیدہونے والے ان مسلمانوں میں سترحفاظِ قرآن بھی تھے۔ ایک ہی جنگ میں سترحفاظِ قرآن کی ایک ساتھ شہادت…اگریہ سلسلہ جاری رہا، توقرآن کریم کا کیاہوگا؟(۱) یہ سوال ظاہرہے کہ ہرمسلمان کیلئے بڑی پریشانی وفکرمندی کاباعث تھا،البتہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں بطورِخاص بہت زیادہ فکرمنداورمضطرب تھے۔ (۱) ------------------------------ (۱)اُس وقت تک قرآن کریم کتابی شکل میں یکجانہیں تھا، رسول اللہﷺ کے مبارک دورمیں جب بھی کوئی نئی آیت نازل ہوتی آپﷺ اسے فوری طورپرحفظ کرلیاکرتے،نیزکاتبینِ وحی میں سے کسی کوبلاکروہ آیت تحریربھی کروالیاکرتے،حضرات صحابۂ کرام نہایت شوق اوراہتمام کے ساتھ ان آیات کوزبانی یادبھی کیاکرتے ، نیزتحریربھی کرلیاکرتے،یوں تمام قرآنی آیات ان حضرات کے سینوں میں بھی اورتحریری شکل میں بھی محفوظ تھیں،لیکن یکجانہیں تھیں،غالباًاس کی وجہ یہ ہوگی کہ رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران ہروقت یہ امکان رہتاتھاکہ شایدکسی بھی وقت کوئی نئی آیت نازل ہوجائے،رسول اللہﷺ کے بعدخلیفۂ اول کے دور میںجنگِ یمامہ کے موقع پرسترحفاظِ قرآن کی یکبارگی شہادت کاجودلدوزواقعہ پیش آیا، توحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے پرزوراصرارکیاکہ اب قرآن کریم کوجلدازجلد’’کتابی شکل‘‘میں یکجاکیاجاناچاہئے۔