اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
یہ محض سولہ برس کے نوجوان تھے…ان کے قبولِ اسلام کی وجہ سے تمام مشرکینِ مکہ ان کے دشمن بن گئے تھے…گھرسے باہرایذاء رسانیوں کے وہ سلسلے …اورپھرخوداپنے گھرکے اندربھی دکھ اوراذیت کے وہ مراحل …جب ماں کھاناپیناچھوڑکربیٹھ گئی… کمزوری ونقاہت کی وجہ سے بسترسے لگ گئی…پھرایک روزچھوٹے بھائی کاہاتھ تھامے ہوئے مکہ سے روانگی…اپنے آبائی شہرسے جدائی…پھرچھوٹے بھائی کاہاتھ تھامے ہوئے مدینہ سے بدرکی جانب روانگی…پھرخوداپنے ہاتھوں اسے وہاں بدرکے میدان میں سپردِخاک کرنے کاجاں گدازمرحلہ…اورپھروہاں سے تنہامدینہ کی جانب واپسی… پھراُحدکے موقع پردن بھرمسلسل تیراندازی…اورپھرحجۃ الوداع کے موقع پروہ تکلیف دہ بیماری …حتیٰ کہ نوبت یہاں تک جاپہنچی کہ انہیں موت کااندیشہ لاحق ہونے لگاتھا… تب رسول اللہﷺ ان کی عیادت کیلئے تشریف لائے تھے…آپؐ نے اس موقع پرانہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ ارشادفرمائے تھے: لَعَلّکَ أن تُخَلَّف ، حَتّیٰ یَنتَفِعَ بِکَ أقوَامٌ ، وَیُضَرُّ بِکَ آخَرُونَ، یعنی’’اے سعد…شایدتمہیں (اللہ کی طرف سے اس دنیامیں)مزیدزندگی عطاء کی جائے…تب کچھ لوگوں(یعنی اہلِ حق)کوتم سے بڑا فائدہ… جبکہ دوسرے کچھ لوگوں(یعنی اہلِ باطل)کوتم سے بڑا نقصان پہنچے گا… ‘‘ اورپھربعینہٖ ایساہی ہواتھا…روئے زمین کی عظیم ترین قوت یعنی سلطنتِ فارس کے خاتمے کی شکل میںاہلِ حق کوسعدؓکے ذریعے بہت بڑافائدہ ٗجبکہ اہلِ باطل کوبہت بڑانقصان پہنچا تھا۔ ٭حجۃ الوداع کے موقع پراپنی اس بیماری کے دوران حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺسے دریافت فرمارہے تھے کہــ’’اے اللہ کے رسول!میری فقط ایک ہی