اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
غرضیکہ ہرلحاظ سے بہت زیاد ہ اہمیت اختیارکرگیا۔ (۱) (۲) ٭…حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے یہ نیاشہر’’کوفہ‘‘بسانے کے بعد خودبھی اسی میں مستقل رہائش اختیارکرلی تھی …چنانچہ انہوں نے وہاں کافی عرصہ گذارا…لیکن آخروہ وہاں سے واپس مدینہ چلے آئے…اورزندگی کایہ سفراسی طرح جاری رہا… مدینہ واپسی کے بعدبھی انہیں بڑی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،’’فاتحِ ایران‘‘ نیز ’’جنگِ قادسیہ‘‘کے یہ ہیرو…اب ہمیشہ کیلئے تاریخِ اسلام کے عظیم ترین ہیروکی حیثیت اختیارکرچکے تھے…اللہ رب العزت نے یہ اتنی بڑی عزت اورایساعظیم الشان مقام و مرتبہ اپنے اس بندے کے نصیب میں لکھاہواتھا۔ ٭…ایک زمانہ وہ تھاکہ جب سعدبالکل نوعمرتھے،مکہ میں قبیلۂ قریش کے معززترین خاندان ’’بنوزہرہ‘‘سے تعلق رکھنے والے ایک بہت ہی خوشحال گھرانے میں اپنے والدین کے یہ انتہائی لاڈلے اورچہیتے نورِنظرتھے…دن بھراپنے ہم عمرنوجوانوں کے ہمراہ مکہ کے گلی کوچوں میں کھیل کودمیںمشغول رہاکرتے تھے… اورپھرایک روزحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ہمراہ رسول اللہﷺکی خدمت میں لے آئے تھے،اورتب ان کادل ایمان کے نورسے جگمگااٹھاتھا…اُس وقت ------------------------------ (۱) کوفہ شہرموجودہ عراق کے دارالحکومت بغدادسے جنوب کی جانب تقریباًایک سوسترکلومیٹرکے فاصلے پرواقع ہے،موجودہ مشہورشہر’’نجف‘‘سے بالکل متصل اس کے آثارآج بھی موجود ہیں۔ (۲)کوفہ شہرکی سیاسی حیثیت وجغرافیائی اہمیت کااندازہ لگانے کیلئے یہی بات بہت کافی ہے کہ خلیفۂ چہارم امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنادارالخلافہ مستقل طورپرمدینہ سے کوفہ منتقل کرلیاتھا… جبکہ اس شہرکی دینی ٗ علمی وادبی اہمیت اس بات سے بخوبی واضح ہوتی ہے کہ اس شہرسے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نامورعلماء ٗ فقہاء ٗ محدثین ٗ ادباء وخطباء ٗ کاایک لامتناہی سلسلہ ہے…امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کاتعلق بھی اسی شہرسے ہی تھا۔