اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
انسان نظرآئے…اوراس سے اس بارے میں کوئی بات معلوم ہوسکے…اورپھردن بھراسی طرح انتظارکے بعدجب شام ڈھلنے لگتی تووہ واپس مدینہ لوٹ آتے… ایک روزوہ اسی طرح جب شہرسے باہرشدت سے کسی کی آمدکے منتظرتھے…اس دوران انہیں ایک اونٹ سوارنظرآیا ٗجوکہ بڑی تیزرفتاری کے ساتھ مدینہ شہرکی جانب محوِ سفر تھا … تب انہوں نے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اس سے دریافت کیاکہ ’’تم کہاں سے آرہے ہو؟‘‘اُس سوارنے رکے بغیرفقط اتناکہا’’من سعد‘‘یعنی ’’سعدکی طرف سے …‘‘ تب حضرت عمرؓنے بڑی بیقراری اوربے چینی کی کیفیت میں اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا’’یاعبداللہ حدّثنی‘‘یعنی’’اے اللہ کے بندے!مجھے کچھ بتاؤتوسہی‘‘ جواب میں اس نے فقط اتنی بات کہی’’ہزم اللہ العدو‘‘یعنی’’اللہ نے دشمن کوشکست سے دوچارکیاہے‘‘ اوراس کے ساتھ ہی فوراًاس نے اپنے اونٹ کوایڑلگائی اوردوبارہ برق رفتاری کے ساتھ مدینہ شہرکی جانب رواں دواں ہوگیا…تب حضرت عمررضی اللہ عنہ بھی مسلسل اس کے پیچھے اپنااونٹ دوڑاتے رہے…اوراسے پکارتے رہے…لیکن اس نے ایک نہ سنی… آخراسی کیفیت میں جب وہ اونٹ سوارمدینہ شہرکی حدودمیں داخل ہوا،کچھ آبادی کے آثار نظرآنے لگے…تب اس کے پیچھے پیچھے اونٹ دوڑاتے ہوئے حضرت عمرؓپرجب لوگوں کی نگاہ پڑی …تویہ لوگ(یعنی مدینہ شہرکے باشندے) حضرت عمرؓ کے ساتھ سلام ودعاء وغیرہ کرنے لگے…اس پراس شخص کوکچھ اندازہ ہونے لگاکہ شاہدیہی حضرت عمرؓ ہیں…اورتب وہ پریشان ہوگیا…اورمعذرت کرتے ہوئے کہنے لگا’’معاف کیجئے گااے امیرالمؤمنین…میں آپ کوپہچان نہیں سکا…چونکہ ہمارے سپہ سالارسعدبن ابی وقاص کاحکم یہی تھاکہ ان کی طرف سے تحریرکردہ یہ خط جلدازجلدامیرالمؤمنین تک پہنچایا