کوئی ادارہ اگر اس کے انتظامات کا کفیل ہوجاتا ہے تو عازمین حج کو اس کا شکرگزار ہونا چاہئے ، اور اگر کسی خاص شخص کو کوئی تکلیف پہونچ جائے ، تو درگزر کردے، کیونکہ انتظام بڑا ہے ، اور اس کے بہت سے شعبے ایسے ہیں جو حج کمیٹی کے اختیار میں نہیں ہیں ، ان کے لئے اسے بہت سے اداروں اور دفتروں سے مدد لینی پڑتی ہے ، کسی ایک جگہ اگر گاڑی اٹک گئی ، تو ہر طرف کاموں کا چکہ جام ہوجاتا ہے۔
مثلاً اس سال بعض وجوہ سے جن کی تفصیل بیان کرنی ضروری نہیں ، سعودی قونصل نے ویزا لگانے میں دیر بھی کی اور بے احتیاطی بھی ، اس میں حج کمیٹی مجبور ہوگئی ۔اس نے وقت پر سارے انتظامات کردئیے ، مگر ویزا ہی ملنے میں تاخیر ہوئی ، تو کیا وہ قابل درگزر نہیں ۔
دوسرا ادارہ جس کی حجاج کرام کو بہت شکایت ہوتی ہے ، وہ معلمین کا ادارہ ہے ، جسے آج کی اصطلاح میں ’’ مکتب ‘‘ کہا جاتا ہے ، انھیں زیادہ ان کے نام سے نہیں مکتب نمبر کے ساتھ جانا جاتا ہے ۔
معلمین کی شکایت پرانی ہے ۔ مولانا عبد الماجد دریابادی کا سفر نامہ پڑھئے ، اور معلمین کی تصویر دیکھئے ۔ لیکن اس دور میں حجاج کرام کی خدمت چونکہ متعدد اِداروں میں تقسیم ہوگئی ہے ، اور اس کا ایک محدود حصہ معلمین کو ملا ہے ، اس لئے اب یہ ادارہ زیادہ محل شکایت نہیں رہ گیا ہے ۔ مجھے تفصیل سے معلوم نہیں کہ معلم کی خدمات کیا کیا ہیں ؟ اتنا جانتا ہوں کہ بسوں کاا نتظام معلم سے متعلق ہے ، جدہ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ، پھر مشاعر حج میں بسوں سے لے جانا اور لے آنا اور خیموں کا انتظام کرنامعلم کی ذمہ داری ہے، اور وہ یہ ذمہ داری پوری کرتے ہیں ، ہاں وقت کے تعین اور اس کی تعمیل میں کچھ ادھر ادھر ہوتا ہے ، لیکن ظاہر ہے کہ حاجیوں کے اس ہجوم اور بسوں کی بھیڑ بھاڑ میں وقت کی پابندی مشکل ہے ۔
میں یہ نہیں کہتاکہ معلمین سے کوتاہی نہیں ہوتی ، بعضے امور ضرور رُونما ہوجاتے ہیں جنھیں بجز معلم کی غلطی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، مثلاً پچھلے سال کے حج میں منیٰ سے جب