مولانا کی تحریر وتقریر سے مجھے جودینی نفع ہوا ، اس کی وجہ سے زمانۂ طالب علمی ہی سے میرے دل میں یہ بات جم گئی تھی کہ مولانا کے پیغام کو عام کرنے کے لئے جو بھی ممکنہ کوشش وکاوش مجھ سے ہوسکے گی اس سے دریغ نہ کروں گا ، تاکہ متلاشیانِ حق اس کی روشنی میں بآسانی اپنی منزلوں تک رسائی حاصل کریں ، اور اپنے افعال وکردار کو سنت وشریعت کے سانچے ڈھال سکیں ۔اگر اس سے کسی ایک شخص کی دینی زندگی سنور گئی تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت وکاوش ٹھکانے لگ گئی۔چنانچہ میں نے اسی قت سے آپ کی ایک ایک تحریر کو حرزِ جاں بناکر رکھا ، اور اپنی تمام چیزوں سے زیادہ اس کی حفاظت کی ، اور جب بتوفیق الٰہی اس کی اشاعت کے مواقع میسر آئے تو اب یہ تمام تحریریں شائع ہوکر منظر عام پر آگئیں ۔
اب تک تقریباً ۲۵؍ کتابیں اور رسائل منظر عام پر آچکے ہیں ، اور اس سلسلے کی یہ آخری کڑی ہے ، اب میرے پاس قدیم تحریروں کا کوئی ذخیرہ موجود نہیں ، ایک دو کتابیں زیر تالیف ہیں ، جب ان کی تکمیل ہوجائے گی تو وہ منظر عام پر آئیں گی، انشاء اﷲ
یہ کتاب مولاناکے ان اداریوں کا انتخاب ہے ،جو مجلہ ’’ المآثر ‘‘ مئو، ماہنامہ انوار العلوم جہانا گنج اور ماہنامہ الاسلام وضیاء الاسلام شیخوپور کے لئے لکھے گئے ۔ جو اداریے کسی خاص موضوع پر لکھے گئے تھے وہ کتابی شکل میں پہلے شائع ہوگئے ہیں ، جیسے مدارس سے متعلق اداریے ’’ مدارس اسلامیہ ، مشورے اور گزارشیں ‘‘ میں ۔ وفیات سے متعلق اداریے ’’ کھوئے ہوؤں کی جستجو ۔۔۔‘‘ میں ۔ اس کے علاوہ بعض اداریے الگ سے رسائل کی صورت میں شائع ہوئے ، جیسے ’’ اہل حق واہل باطل کی شناخت‘‘ ’’مالی معاملات کی کمزوریاں ‘‘ اور ’’فتنوں کی طغیانی ‘‘وغیرہ۔
خدا کرے دیگر تحریروں کی طرح اس کا نفع بھی عام اور تام ہو ۔
ضیاء الحق خیرآبادی
۲۴؍ ربیع الاول ۱۴۳۳ھ
۱۷؍ فروری ۲۰۱۲ء جمعہ