اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
شامل تھے۔ اورپھرنبوت کے چودہویں سال کے آغازمیں رسول اللہﷺودیگرمسلمان رفتہ رفتہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،جہاں ایک نئی زندگی کاآغازہوا۔ ٭…رسول اللہﷺکی مدینہ تشریف آوری کے بعدحضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہمیشہ آپؐ کی خدمت ٗ صحبت ٗ علمی استفادہ ٗاورکسبِ فیض کے سلسلے میں پیش پیش اورنمایاں رہے…لیکن پھر ایک ایساواقعہ پیش آیاجوان کیلئے بہت ہی بڑی آزمائش کی صورت میں سامنے آکھڑاہوا۔اوروہ واقعہ تھا’’غزوۂ تبوک‘‘۔ ۹ھمیں پیش آنے والایہ ’’غزوۂ تبوک‘‘بہت سی خصوصیات کی بناء پردیگرغزوات سے کافی مختلف ثابت ہواتھا،البتہ یہ اوربات ہے کہ وہاں ’’تبوک‘‘کے مقام پرپہنچنے کے بعدباقاعدہ کسی جنگ کی نوبت ہی نہیں آئی تھی،اورجوبڑے خطرات سروں پرمنڈلارہے تھے ٗاللہ نے اپنے خاص فضل وکرم سے انہیں رفع دفع فرمادیاتھا…لیکن اس کے باوجود اس غزوے کے موقع پرکچھ ایسے مخصوص حالات سے مسلمانوں کودوچارہوناپڑاتھاکہ جواس سے قبل کبھی کسی غزوے کے موقع پرپیش نہیں آئے تھے،مثلاً: ٭…اس سے قبل تمام غزوات مشرکینِ عرب کے خلاف پیش آئے تھے(۱) ------------------------------ (۱)سوائے ’’مؤتہ‘‘کے ،جوکہ ۸ھمیں ’’رومیوں‘‘کے خلاف پیش آیاتھا،لیکن مجموعی طورپرمؤتہ کے موقع پرصورتِ حال ایسی نہیں تھی کہ جیسی تبوک کے موقع پرتھی،نیزیہ کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پرنہیں تھا،وہ تو رسول اللہ ﷺکے ایک قاصدکے رومیوں کے ہاتھوں قتل کا واقعہ پیش آنے کے بعدآپؐ نے محض تادیبی کارروائی کی غرض سے تین ہزارافرادپرمشتمل لشکرسلطنتِ روم کی جانب روانہ فرمایاتھا،البتہ وہاں پہنچنے کے بعداچانک بالکل ہی غیرمتوقع صورتِ حال پیش آگئی تھی جس کی وجہ سے معاملہ بڑی نزاکت اختیارکرگیاتھا…تاہم اصل میں یہ غزوۂ مؤتہ بڑے پیمانے پرنہیں تھا، مزیدیہ کہ خودرسول اللہﷺبھی اس موقع پرشریک نہیں تھے۔لہٰذارومیوں کے خلاف پہلے اورحقیقی اصل غزوے کی حیثیت سے روانگی ’’غزوۂ تبوک‘‘کے موقع پرہی ہوئی تھی۔