اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
کرتاتھا۔ چنانچہ ایک روزمیں نے انہیں خاموشی کے ساتھ مدینہ شہرسے باہرکی جانب روانہ ہوتے دیکھا،میں بھی ان کے پیچھے ہولیا،ایک مضافاتی بستی میں پہنچنے کے بعدوہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں داخل ہوگئے، اورپھرکچھ وقت گذرنے کے بعدوہاں سے نکلے اور واپس مدینہ شہرکی طرف چل دئیے…تب میں نے سوچاکہ میں بھی ذرہ اس جھونپڑی میں جاکردیکھوں،اورپھرمیں اس جھونپڑی میںجاپہنچا،وہاں میں نے دیکھاکہ ایک نابینا بڑھیا ہے،اوراس کے ہمراہ چندچھوٹے بچے بھی ہیں۔میں نے اس بڑھیاسے دریافت کیا’’اے اللہ کی بندی! اللہ تم پر رحم فرمائے، یہ شخص کون تھا جوابھی کچھ دیرقبل تمہاری جھونپڑی سے نکل کرگیاہے؟ ‘‘ بڑھیانے جواب دیا’’یہ شخص یہاں اکثرآیاکرتاہے،لیکن ہمیں نہیں معلوم یہ کون ہے‘‘۔ تب میں نے کہا’’اچھا!یہ بتاؤ،یہ شخص یہاںآکرکیاکرتاہے؟‘‘ اس پر بڑھیا نے کہا’’یہ ہماری اس جھونپڑی میں جھاڑولگاتاہے،صفائی کرتاہے،ہمارے لئے پانی بھرتاہے،ہمارے لئے کھانابھی تیارکرتاہے،اورپھرہمارے برتن مانجھتاہے، اوربس… واپس چلاجاتاہے‘‘۔ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب خلیفۂ وقت ٗنیزرسول اللہﷺکے اولین جانشین ٗصدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کی یہ ’’عظمت‘‘دیکھی ، اوراس ضعیف ونابینابڑھیا کی زبانی یہ تمام گفتگوسنی…تو ان کی آنکھوں سے بے اختیارآنسوبہنے لگے۔ ------------------------------ (۱)تاریخ الخلفاء /جلال الدین السیوطی:(۱/۷۸)