اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
ابوالعاص بن الربیع نے بھی اپنے بزرگوں سے یہی پیشہ(تجارت)سیکھا،اسی کواپنایا،اس میں خوب مہارت حاصل کی،اورپھرخوب ترقی کی منزلیں بھی طے کرتاچلاگیا۔ چنانچہ جب بھی مکہ سے ملکِ شام یاملکِ یمن کی جانب کوئی تجارتی قافلہ روانہ ہوتا، او ر پھر وہاں سے واپسی میں یہ قافلہ بڑی مقدارمیں تجارتی سامان لئے ہوئے واپس مکہ پہنچتا… تو ایسے ہرقافلے میں ہمیشہ ابوالعاص بن الربیع کے سواونٹ ٗ نیزان اونٹوں کی دیکھ بھال اور سامان کی نقل وحمل کی غرض سے ہراونٹ کے ساتھ دوملازم ٗیعنی ہرقافلے میں ابوالعاص کے سواونٹ اوردوسوملازم شامل ہواکرتے تھے۔ خاص بات یہ کہ صداقت اورامانت ودیانت کے حوالے سے بھی اس نوجوان ابوالعاص کی بڑی شہرت تھی ،لہٰذااس کی تجارت کی کامیابی اوراس قدرعروج کی یہ بھی ایک بڑی وجہ تھی۔ ٭…مکہ میں اُس دورمیں ایک بہت ہی شریف النفس اورمعززخاتون ہواکرتی تھیں ٗ جو کہ انتہائی شرافت ونجابت اوراعلیٰ اخلاق وکردارکے ساتھ ساتھ مالداراورخوشحال بھی بہت زیادہ تھیں،اوران کاذریعۂ معاش بھی’’ تجارت‘‘ہی تھا،اِن خاتون کانام ’’خدیجہ بنت خویلد‘‘ تھا،جوکہ مکہ کے ایک انتہائی شریف النفس اورمعززترین انسان’’محمدبن عبداللہ‘‘کی زوجہ محترمہ تھیں(یہ تمامترگفتگورسول اللہﷺکی بعثت سے قبل کے زمانے کی ہے)۔ خدیجہ بنت خویلدکی ایک چھوٹی بہن تھی جس کانام ’’ہالہ‘‘تھا(۱)اوریہ نوجوان تاجر ابوالعاص بن الربیع اسی ’’ہالہ ‘‘کابیٹاتھا،اوریوں خدیجہ اس کی خالہ تھیں۔ خدیجہ بنت خویلداپنی چھوٹی بہن ہالہ بنت خویلدسے بہت پیارکیاکرتی تھیں ،اورپھراسی ------------------------------ (۱)خوب چمکتے ہوئے چاندکے چاروں جانب روشنی کاجوایک دائرہ نظرآیاکرتاہے، اسے عربی میں’’ہالہ‘‘ کہاجاتاہے۔