اصحاب الرسول صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
تبدیل ہوگئی…جس کی وجہ سے مسلمانوں کوبہت زیادہ پریشانی وافراتفری کاسامنا کرناپڑا…اپنی صفوں میں وہ نظم وضبط برقرارنہ رکھ سکے…کسی کوکسی کی خبرنہ رہی… باہم رابطہ براقرارنہ رہ سکا…اوروہ سب ایک دوسرے سے بے خبر…اِدھراُدھر منتشر اور سراسیمہ ہوگئے… اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرکینِ مکہ نے اپنی تمام توجہ اس جانب مرکوزکردی جہاں رسول اللہﷺموجودتھے…اس نازک ترین موقع پرچندمٹھی بھرجاں نثار…جوآپؐکے گرددیوانہ وار…تیروں اورنیزوںکی بوچھاڑکواپنے ہاتھوں اورسینوں پرروکتے ہوئے…آپؐ کی حفاظت کافریضہ انجام دے رہے تھے…انہی جاں نثاروں اور سرفروشوں میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اورپھراس جنگ کے اختتام پرکیفیت یہ تھی کہ رسول اللہﷺکی جبینِ اقدس پرگہرازخم آیاتھاجس سے خون بہہ رہاتھا…چنددندان مبارک شہیدہوگئے تھے…رُخِ انورپرکسی بدبخت مشرک کی تلوارکی ایسی زوردارضرب لگی تھی کہ جس کی وجہ سے زرہ کی چندکڑیاں آپؐ کے رُخسارمبارک میں پیوست ہوگئی تھیںاورکافی اندرگہرائی تک چلی گئی تھیں… تب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے زرہ کی یہ کڑیاں آپؐ کے رخسارمبارک سے نکالنے کی بہت کوشش کی…لیکن کامیابی نہ ہوسکی…آخرانہیں مخاطب کرتے ہوئے ابوعبیدہؓ فرمانے لگے: أُقسِمُ عَلَیکَ أن تَترُکَ لِي ذَلِکَ … یعنی’’اے ابوبکر! میں آپ کواللہ کی قسم دے کرکہتاہوں کہ آپ یہ کام مجھ پرچھوڑدیجئے…‘‘ چنانچہ اب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اسی کوشش میں مشغول ہوگئے…لیکن کوئی کامیابی نہوسکی…تب آخرانہوں نے ان کڑیوں کواپنے دانتوں سے جکڑکرپوری قوت سے کھینچا،