محاسبہ سے محفوظ ہوگئی۔ نہ صرف عوامی محاسبہ سے محفوظ ہوگئی۔ بلکہ پیپلزپارٹی کے پردے میں اسے عوام کی نمائندگی کا سرٹیفکیٹ بھی ملاگیا۔ اس طرح وہ پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوگئی۔
بیوروکریسی کی طاقت ہی دراصل قادیانیوں کی قوت کا سرچشمہ ہے۔ اس بناء پر قادیانی بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگئے۔
قادیانی اپنے فاسد معتقدات کے باعث کبھی مسلمانوں میں براہ راست کام نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن سوشلزم اور نظریہ پاکستان کے نظریاتی تصادم کے باعث وہ پیپلزپارٹی کے سٹیج سے میدان میں آگئے اور مسلمانوں کے قابل قدر رہنماؤں پر رکیک حملوں کا آغاز کر دیا اور پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور اس طرح دھوکے سے سرزمین پنجاب کے عوام سے ان کی نمائندگی کی سند بھی حاصل کر لی اور ان کے متعدد نمائندے کامیاب ہوکر صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ حتیٰ پنجاب کی طرف سے تین قادیانیوں کو سنیٹر بھی منتخب کر لیاگیا۔ روٹی کپڑے اور مکان کے مسحورکن وعدوں اور نظریاتی تصادم کے گردوغبار میں پنجاب کے لوگ یہ نہ دیکھ سکے کہ وہ کن لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کی اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے مرزاناصر کہتا ہے: ’’انتخابات میں پاکستان کی نئی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (روزنامہ مشرق ماہ دسمبر ۱۹۷۰ئ)
’’احمدی فرقہ کو خدا کی خوشنودی اور حمایت حاصل ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت یا تمام طاقتیں مل کر بھی ہماری تحریک کو ختم نہیں کر سکتیں۔‘‘ (روزانامہ سادات مورخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۷۰ئ)
الفضل کے مدیر نے فخریہ یہ شعر الاپا ؎
زمین کے گونج اٹھے ہیں کنارے
کہو مرزا غلام احمد کی ہے جے
(الفضل قادیان ج۵۹ نمبر۲۸۷ ص۲، مورخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۷۰ئ)
سوشلسٹوں، علیحدگی پسندوں اور قادیانیوں کے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں جن عناصر کو ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جو تباہ کن کامیابی حاصل ہوئی اور اس کامیابی کے بعد ان عناصر نے جنگ اقتدار کا جو مکروہ ڈرامہ سٹیج کیا اسے دیکھ کر محب وطن عناصر تڑپ کر رہ گئے۔ ایئرمارشل نور خاں اور نوابزادہ شیر علی جیسے رہنما بول اٹھے کہ ملک میں خوفناک سازش کی جارہی ہے۔ نوکر شاہی میں چھپے ہوئے بعض ایسے افسر ہیں جو ملک کو انتشار اور انارکی کی طرف لے جارہے ہیں۔ پاکستان کی