سچ ہے ؎
ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
اب یہ حقیقت بتانا مرزائیوں کا کام ہے کہ مرزاقادیانی کا بیان کردہ فتویٰ خود مرزاقادیانی پر اور ساتھ ہی تمام مرزائیوں پر الٹ کر پڑا یا نہیں۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے ؎
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را
چنداں اماں نداد کہ شب راسحر کند
دوسری پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے متعلق
ڈاکٹر عبدالحکیم خانصاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ بیس سال تک مرزاقادیانی کے ارادتمند مرید رہے۔ بعدہ مرزاقادیانی کی بطالت ان پر واضح ہوگئی تو انہوں نے مرزائیت سے توبہ کر کے مرزاقادیانی کی تردید میں چند رسالے لکھے۔ مرزاقادیانی بھی ان کے سخت خلاف ہوگیا۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت کی الہامی پیش گوئیاں شائع کیں۔ اس کے متعلق مرزاقادیانی کے اشتہار کا اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے:
خدا سچے کا حامی ہو
’’میں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیش گوئی کی ہے۔‘‘
’’مرزاقادیانی کے خلاف مورخہ ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔‘‘ ’’مرزاقادیانی مسرف ہے کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتلائی گئی ہے۔‘‘
اس کے مقابل پر وہ پیش گوئی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہنچانا نہ دیکھا نہ جانا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲، خزائن ج۲۲ ص۴۱۰،۴۱۱)
’’رب فرق بین صادق وکاذب انت تریٰ کل مصلح وصادق‘‘ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب نے ایک اور الہام شائع کیا کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے ۱۴ماہ تک مرزاقادیانی مر جائے گا۔ اس کے جواب میں مرزاقادیانی نے ایک اشتہار بعنوان تبصرہ مورخہ