انہیں اپنا نجات دہندہ نظر آتا ہے اور اس کے والہ وشیدائی بن کر اس کے اندھے پیروکار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح قادیانی بھی اپنے مریدوں کا ذہنی غسل کر کے ہر خلیفہ کو خدائی اوتار کا درجہ دے دیتے ہیں اور پھر بے چون وچرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ قادیانی ریاست میں خلیفہ مطلق العنان اختیارات کا حامل ہوتا ہے اور قادیانی جماعت میں فسطائیت اور آمریت کی روح مکمل طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔
سوشلسٹ اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹ اور بہتان طرازی کا طوفان اٹھاتے ہیں۔ قادیانیوں کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ بڑے سے بڑا جھوٹ بے دریغ اور بلاجھجک بولتے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بولتے ہیں اور اپنی مطلب برآری کے لئے ہر قسم کا بہروپ اختیار کر لیتے ہیں۔ جس طرح سوشلسٹ اپنے مخالفین کے خلاف بڑی گھٹیا، بازاری، غیرمہذب اور غیرشریفانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح قادیانی بھی اپنے مخالفین کے خلاف نہایت لچر زبان استعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے نبی کی زبان بھی ناشائستہ اور حد درجہ اشتعال انگیز ہوتی ہے۔ سوشلسٹ بھی اپنے مقصد کے لئے ہر قسم کا اخلاقی اور غیراخلاقی کام کر گزرتے ہیں۔ یہی طریقہ قادیانیوں کا ہے۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ قادیانی یہ سب کچھ مرزاغلام احمد قادیانی کو اپنا نبی مان کر مذہبی لبادے میں کرتے ہیں۔ مگر سوشلسٹ خدا اور رسول کا انکار کر کے کھلم کھلا کرتے ہیں۔
قادیانی اور سوشلسٹوں میں یہ مماثلت محض ظاہری نہیں۔ بلکہ عملاً ان کا باہمی گٹھ جوڑ بھی رہا ہے۔ لیاقت علی مرحوم کے قتل کی ناکام سازش میں سوشلسٹ اور قادیانی برابر کے شریک تھے۔ ۱۹۶۹ء میں جب سیاسی آزادیاں بحال ہوئیں تو قادیانیوں نے پیپلزپارٹی جو سوشلسٹ نظام کی داعی ہے، کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور عملاً اس کی تائید کی اور خلیفہ ناصر کے بیان کے مطابق ۱۹۷۱ء کے انتخابات کے دوران ۲۰ہزار قادیانی نوجوان کارکنوں نے پیپلزپارٹی کے حق میں کام کیا اور دامے درمے قدمے اور سخنے پیپلزپارٹی کی بھرپور مدد کی۔ (روزنامہ ندائے ملت ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۰ئ)
پیپلزپارٹی اور قادیانیوں کے باہمی اتحاد کا سوفیصد فائدہ قادیانیوں کو ملا۔ پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے انہیں عوام سے رابطہ کی سہولت ملی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ذریعے ملک میں نظریاتی کش مکش برپاکردی اور نظریۂ پاکستان اور سوشلزم کے حامیوں کے مابین جنگ کا آغاز ہوگیا۔ دراصل یہ جنگ بیوروکریسی اور عوام کی تھی۔ لوگ بیوروکریسی کی آمریت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور اس کی آمریت کو ختم کرنے کے درپے تھے۔ مگر اس نظریاتی تصادم سے قادیانیت عوام کے