(حصہ دوم)
مرزاقادیانی کے عقائد باطلہ … مرزاقادیانی کے الفاظ میں
اس جعلساز اور بہروپیئے (مرزاغلام احمد قادیانی لعنتہ اﷲ علیہ) نے مسیح موعود ہونے کے علاوہ اور بھی بہت سے دعوے کئے اور کئی روپ دھارے۔ محدثیت کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’میں محدث ہوں۔‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
مجددیت کا دعویٰ ان الفاظ میں کیا ؎
رسید مژدہ زغیبم کہ من ہماں مردم
کہ او مجدد ایں دین وراہنما باشد
مجھے غیب سے خوشخبری ملی ہے کہ میں وہ مرد ہوں کہ دین کا مجدد اور راہنما ہوں۔
(تریاق القلوب ص۲، خزائن ج۱۵ ص۱۳۲)
غلام احمد قادیانی ملعون مہدویت کا اعلان کرتے ہوئے: ’’میں مہدی ہوں۔‘‘
(معیار الاخیار ص۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۴۶)
آیت ’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے اور ’’اس آنے والے کا نام جو احمد رکھاگیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ مگر ہمارے نبیﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال وجمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۷۳، خزائن ج۳ ص۴۶۳)
اگرچہ اس عبارت میں مرزاقادیانی نے لکھ دیا ہے کہ نبی کریمﷺ فقط احمد ہی نہیں۔ بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال وجمال ہیں۔ ان الفاظ کے لکھنے سے یہ مقصد نظر آتا ہے کہ اگر ابتداء میں ہی صاف طور پر لکھ دیا کہ آنحضرتﷺ احمد نہیں تھے تو عامتہ المسلمین متنفر ہو جائیں گے۔ لیکن آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰﷺ کے لئے نہ تھی۔ بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے تھی۔