سوشلسٹوں سے گٹھ جوڑ
ملک میں آمریت کے نفاذ اور استحکام کے لئے جو عناصر کام کر رہے ہیں۔ قادیانی ان میں سے ہر ایک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ نوکر شاہی کا بے دین طبقہ ملک میں آمریت چاہتا ہے۔ قادیانی اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ پرویزی گروہ ’’مرکز ملت‘‘ کے گمراہ کن فلسفے کی روشنی میں بیوروکریسی کی آمریت کا علمبردار ہے۔ قادیانی اس سے بھی کوئی تعرض نہیں کرتے۔ سوشلسٹ عناصر بھی ایک فسطائی نظام کے علمبردار ہیں۔ قادیانیوں نے ان سے بھی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ کئی مقامات پر سوشلسٹوں اور قادیانیوں میں تعاون اور اتحاد کی فضا قائم ہے۔ ان دونوں عناصر کے مقاصد اور طریق کار میں واضح مماثلت پائی جاتی ہے۔ سوشلسٹ آمیریت چاہتے ہیں اور یہ قادیانیوں کا عین ایمان ہے۱؎۔ کیونکہ آمریت کے بغیر وہ اپنے وجود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ سوشلسٹ غیرملکی نظریات درآمد کر کے غیرملکی سامراجی طاقتوں میں سے کسی نہ کسی کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں اور یہی حال قادیانیوں کا ہے۔ قادیانی بھی ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے ملک میں دین کی اعلیٰ اقدار اور جمہوریت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ سوشلسٹ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے علاقائی اور لسانی تعصبات کو بھڑکاتے ہیں۔ قادیانی بھی اسی طریق کار کو اپنائے ہوئے ہیں اور مسلمان معاشرہ میں افتراق کو ہوادیتے، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، سندھی، پنجابی اور بلوچی اور غیربلوچی تعصبات کو ہوادیتے رہتے ہیں۔ سوشلسٹ بھی مادی اپیل یعنی روٹی، کپڑے اور مکان کا لچ دے کر لوگوں کی ہمدردیاں اور تائید حاصل کرتے ہیں۔ قادیانی بھی اسی طرح مادی اپیل کے ذریعے ملازمتوں کا لالچ دے کر اور روپے پیسے کے زور سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشلسٹ بھی پروپیگنڈے کے زور سے اپنے رہنما یا قائد کے اندر کچھ مافوق الانسانی خصوصیات کا ڈھنڈورا پیٹ کر اسے عظیم قائد بنا دیتے ہیں اور پھر بڑی فنکاری کے ساتھ وہ لوگوں کا اس حد تک ذہنی غسل (BRAIN WASHING) کر دیتے ہیں کہ وہی عظیم قائد
۱؎ (الفضل قادیان مورخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ئ، نمبر۲۳ ص۶)قادیانی کس طرح کا فسطائی نظام چاہتے ہیں۔ اس بارے میں قادیان کے ایک سابق خلیفہ محمود احمد نے ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے۔ ’’حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے۔ اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔‘‘