حقیقت میں قادیانی امت ایک مستبد اور ظالم اقتدار کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔ یہ نہ عوامی تحریک ہے اور نہ عوام سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ سامراج نے اسے جنم دیا ہے۔ بیوروکریسی نے اسے تحفظ دے کر پروان چڑھایا ہے اور اب بھی وہ اسی کے سہارے قائم ہے اور اپنے اقتدار کے حصول کے لئے درپردہ سازشوں کا جال بچھائے ہوئے ہے۔ اس کے اثر ونفوذ اور اس کی قوت وطاقت کا اصل منبع اندرون ملک بیوروکریسی ہے اور بیرون ملک برطانوی سامراج۔ جب تک اس کے یہ دو سہارے قائم ہیں۔ اس وقت تک اس کا وجود بھی قائم ہے اور جب اس کے یہ سہارے ختم ہو جائیں گے اسی لمحے یہ بھی امت اپنی موت آپ مر جائے گی۔
قادیانیت ایک لحاظ سے پاکستان کی ملحد، بے دین، عوام دشمن، نوکر شاہی کا ’’دین الٰہی‘‘ ہے۔ جب ملک سے نوکر شاہی کا اقتدار ختم ہوگا اور جس دن اقتدار اس ملک کے اصل وارثوں یعنی عوام کو صحیح معنوں میں منتقل ہوگا۔ اسی دن قادیانیت کا پودا مرجھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی گروہ ملک میں جمہوری اداروں کے فروغ اور ان کے استحکام کا شدید مخالف ہے اور پاکستان میں آمریت اور خاص طور پر بیوروکریسی کی آمریت کو ملک پر بجبرمسلط کر دینے کا حامی ہے۔ اسی بناء پر وہ ملک کے ہر اس گروہ یا پارٹی کا ہمدرد اور بہی خواہ ہے جو ملک میں آمرانہ نظام قائم وبرقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے وجود کا قیام وبقاء آمریت کے ساتھ قائم ہے اور جمہوریت میںا سے اپنی موت نظر آتی ہے۔
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) ہندوستان میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۶۵، روایت نمبر۱۵۷) ۱۹۰۷ء میں اعلان کیاگیا کہ یہ تعداد چار لاکھ ہے۔ (تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۷) ۱۹۰۹ء میں بھی یہ تعداد چار لاکھ تھی۔ (حقیقت الوحی ص۱۲۳، خزائن ج۲۲ ص۱۳۰) ۱۹۲۲ء میں میاں محمود نے دعویٰ کیا کہ قادیانی چار پانچ لاکھ ہیں۔ (الفضل قادیان مورخہ ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ئ، ج۱۱ نمبر۶۷ ص۴) ۱۹۳۰ء میں یہ تعداد دس لاکھ بیان کی گئی اور اسی سال اس تعداد کو بیس لاکھ تک پہنچا دیا گیا۔ ایک قادیانی مبلغ نے یہاں تک دعویٰ کر ڈالا کہ پنجاب میں اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ (رسالہ شمس الاسلام بھیرہ ج۵ نمبر۱۰) لیکن ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے اعداد وشمار کی رو سے پنجاب میں ان کی تعداد ۵۶ہزار تھی اور سارے ہندوستان میں مزید ۲۰ہزار کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ پاکستان میں قصر ربوہ سے قادیانیوں کی تعداد کے بارے میں پھر مبالغہ آرائی سے کام لیاجارہا ہے۔ قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ نے قادیانیوں کی موجودہ تعداد ایک کروڑ بیان کی ہے۔ گویا مغربی پاکستان کا ہر چھٹا فرد قادیانی ہے اور اگر صرف پنجاب کو سامنے رکھا جائے تو ہر تیسرا فرد قادیانی ہوگا۔ اگر آج بھی قادیانیوں کا مسلمانوں سے الگ کر کے شمار کیا جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ ان کی تعداد بمشکل چار پانچ لاکھ ہوگی۔