رہے ہیں۔ ان کا حکومت کے دوائر میں بڑا رسوخ ہے۔ ان کے قبضے میں بڑی بڑی ملازمتیں ہیں۔ ان کے ہاتھ دور دور تک پہنچے ہیں۔ خدا کرے ہمارا گمان غلط ہو۔ لیکن بعض افسروں کی ایک جماعت اندر خانہ مرزائی ہوچکی ہے اور تقیہ کر رہی ہے۔ ہمیشہ خدشہ ہے کہ یہ لوگ کسی نازک مرحلہ پر گل بھی کھلا سکتے ہیں۔ خود کاشتہ پودے کی حیثیت سے ان کا بعض ایسے ملکوں سے ناطہ بندھا ہوا ہے جو استعمار کی یادگار ہیں اور جن کی معرفت انہیں یقین ہے کہ ان کا محافظ دستہ ثابت ہوسکتی ہے۔ مرزائی افسروں نے مسلمان حاکموں کو عوام الناس سے برگشتہ کر رکھا ہے۔ ملک کی اقتصادی زندگی پر قابض ہوکر وہ حکومت میں ایسا ہی رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا رسوخ یہودیوں کو امریکہ کے صدارتی انتخاب اور برطانیہ کی قومی معیشت میں حاصل ہے۔‘‘
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج۲۱ نمبر۱۲ ص۴، مورخہ ۱۸؍مارچ ۱۹۶۸ئ)
پاکستان میں یہ اثرات اس گروہ کو حاصل ہیں جو اقلیت میں ہے اور ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کی رو سے جس کی تعداد متحدہ ہندوستان میں صرف ۷۶ہزار تھی۔ پنجاب میں ۵۶ہزار کا اندازہ لگایا تھا۔ تعداد کی اس قلت پر پردہ ڈالنے کے لئے حال ہی میں مرزاناصر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد چالیس لاکھ ہے۔ قادیانیوں کی تعداد کے بارے میں خواہ کس قدر مبالغہ سے کام لیا جائے۔ ان کی تعداد چار پانچ لاکھ سے ہرگز زائد نہیں ہوسکتی۔
یہ قلیل گروہ نوکر شاہی میں اپنے اثرات کے باعث بڑا نازاں ہے اور اپنے اقتدار کے خواب دیکھ رہا ہے۔ لندن میں قادیانیوں کے یورپی کنوینشن کے موقع پر سرظفر اﷲ کی موجودگی میں قادیانی حکومت کے منشور پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی گئی۔
’’اگر احمدیہ جماعت برسراقتدار آجائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں گے۔ دولت کو ازسرنو تقسیم کیا جائے گا اور سود پر پابندی لگا دی جائے گی اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے گی۔‘‘ (روزنامہ جنگ مورخہ ۴؍اگست ۱۹۶۵ئ)
یہ اقلیت اپنے برسراقتدار آنے کے لئے جو طریقے استعمال کر رہی ہے۔ وہ اگرچہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ تاہم حکومت کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔ مگر حکومت اس گروہ کو بے ضرر اور انتہائی وفادار مذہبی فرقہ سمجھتی ہے اور اس گروہ کی سازشیانہ سرگرمیوں کا پردہ چاک کرنے والے ہر شخص کی زبان وقلم پر پابندی عائد کر دیتی ہے۔
۱؎ قادیانیوں نے ہر دور میں اپنی تعداد کے بارے میں شدید مغالطہ دیا ہے اور اس سلسلے میں صریح غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں دعویٰ کیا تھا کہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)