خارجہ پالیسی نے تمام عرب ممالک کو پاکستان سے ناراض کردیا اور وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دینے لگے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان اپنے مسلمان برادر ممالک کی بھرپور تائید وحمایت سے محروم ہوگیا۔‘‘
نوکر شاہی میں قادیانی اثرات
پاکستان کی نوکر شاہی میں قادیانی بے پناہ اثرات کے حامل ہیں۔ جن کی وجہ سے قادیانیوں کا یہ گروہ ملک کے وسائل کو اپنے گروہی مفادات کے حق میں استعمال کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ربوہ کی آبادی اور توسیع کے لئے حکومت سے ۱۰۳۴ ایکڑ اراضی حاصل کی گئی۔ مگر اس کی قیمت چند پیسے فی مرلہ طے کی گئی۔ پھر اسی اراضی کو تین ہزار رہائشی پلاٹوں میں تقسیم کر کے ہزاروں اور لاکھوں روپے کمائے گئے۔ اس طرح ربوہ کے نام سے قادیانی ریاست کا ہیڈ کوارٹر تعمیر کیاگیا۔ جس میں کوئی غیرقادیانی داخل نہیں ہوسکتا اور پاکستان میں ربوہ ایک ایسا شہر ہے جہاں کوئی غیرقادیانی اپنا نہ مکان خرید سکتا ہے اور نہ وہاں ربوہ کے حکام کی اجازت کے بغیر قیام کر سکتا ہے۔
۱۹۶۱ء میں صرف قادیانیوں کو ساڑھے گیارہ لاکھ روپے کا زرمبادلہ دیاگیا۔ جب کہ زرمبادکہ کی کمی کے پیش نظر حاجیوں کے لئے حج پر جانے کی پابندی تھی۔ اس رقم سے کم وبیش ایک ہزر سے زائد حاجیوں کو حج بیت اﷲ کی سہولتیں مہیا کی جاسکتی تھیں۔ ۱۹۶۸ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیاگیا کہ تبلیغ اسلام کے نام پر قادیانیوں کو سب سے زیادہ زرمبادلہ (تقریباً ۸۶۲۰۰۰ روپے) دیاگیا۔
نوکر شاہی میں اس گروہ کے اثرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خاص طور پر ایوبی دور میں بعض قادیانیوں کو ٹرسٹ کے اخبارات میں بھرپور نمائش کی جاتی رہی ہے اور جو آزاد اخبارات قادیانیوں کی پراسرار اور زیرزمین سرگرمیوں کا ذرا بھی نوٹس لیتے تھے تو سرکاری مشنری فوراً حرکت میں آجاتی تھی اور ان پر پابندی لگادی جاتی تھی۔ ایک دفعہ آغا شورش کاشمیری نے اپنے ہفت روزہ چٹان میں قادیانیوں کے بارے میں ’’الحمد ﷲ‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر شذرہ تحریر کیا تو ان کا اخبار بند کر دیاگیا۔ پریس ضبط کر لیاگیا اور وہ خود بھی گرفتار کر لئے تھے۔
چٹان لاہور میں آغاشورش کاشمیری نے قادیانی اثرات کے بارے میں اس تشویش کا اظہار کیا: ’’اصلاً تو ہم حکومت سے عرض کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شنوائی نہیں۔ اس لئے اس سے کہنا عبث ہے۔ لیکن ملک کے تمام علماء اور جملہ وابستگان ختم نبوت سے عرض کرنا ہمارا فرض ہے کہ خدا کے لئے اس امت کی سرگرمیوں سے غافل نہ رہیں۔ یہ عجمی اسرائیل قائم کرنے کے خواب دیکھ