ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔ قادیانیوں کا مشن ۱۹۳۸ء میں قائم کیاگیا تھا۔ جب برطانیہ نے یہودیوں کی اس ناجائز ریاست کو قائم کیااور ۱۹۴۸ء میں یہودی درندے عرب مسلمانوں سے خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ اس وقت یہ مشن بعافیت یہودیوں کی اس ریاست میں کام کر رہا تھا اور پاکستان کی وزارت خارجہ کا جائنٹ سیکرٹری گریفتھ کوئین اسرائیل میں موجود تھا۔ مصر کے پاکستانی سفارت خانہ میں یہودی لڑکیاں بھی کام کر رہی تھیں۔
جب ۱۹۵۶ء میں عرب مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی لڑائی ہوئی تو اس وقت اسرائیلی حکمران قادیانیوں کے مشن کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ جیسا کہ مرزامبارک احمد کی طرف سے شائع کردہ خبر میں بتایا گیا ہے: ’’اسرائیل میں احمدیہ مشن حیفہ کے ماؤنٹ کرمال پر واقع ہے۔ ہماری وہاں ایک مسجد ہے۔ ہمارا مشن البشریٰ نامی ایک ماہنامہ بھی شائع کرتا ہے۔ جو عربی بولنے والے تیس مختلف ملکوں کو بھیجا جاتا ہے۔‘‘ (فارن مشن)
مرزاناصر ۱۹۶۷ء میں جب اپنے دورۂ یورپ سے لوٹے تو ان سے عرب مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے بارے میں نامہ نگاروں نے سوال کیا۔ مرزاناصر نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ مرزا ناصرقادیانی کا یہ گریز بے وجہ نہ تھا۔ مسلمانوں کو شکست مرزا ناصر کے گویا دشمنوں کی شکست تھی اور یہودیوں کی فتح۔حقیقتاً قادیانیوں کے سرپرستوں کی فتح تھی۔ انیسویوں صدی کے آغاز میں جب انگریزوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو اس وقت بھی قادیانیوں کے جذبات واحساسات کا عالم عام مسلمانوں سے مختلف تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی شکست اور ہزیمت پر گھی کے چراغ جلائے تھے اور زخم خورہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔ اس سلسلے میں ایک قادیانی مبلغ اپنے تأثرات کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ’’بیت المقدس کے داخلہ پر اس ملک (یعنی انگلستان) میں بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ میں نے یہاں کے ایک اخبار میں اس پر ایک آرٹیکل دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ وعدہ کی زمین جو یہود کو عطاء کی گئی تھی مگر نبیوں کے انکار اور بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو سزا کے طور پر ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہود کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دی گئی جو بت پرست قوم تھی۔ بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۱۸ئ) ’’اس مضمون کے متعلق وزیراعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا۔ فرماتے ہیں۔ ’’مسٹر لائڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔‘‘ قادیانیوں کی اس یہود نواز