…انصار اﷲ
اس تنظیم کا مقصد خلافت کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ نیم عسکری تنظیم ہے۔ اس کے محکموں اور ان کے قائدین کی تقسیم کچھ اس طرح کی ہے: (۱)قائد عمومی، (۲)قائد مال، (۳)قائد تعلیم، (۴)قائد حریت، (۵)قائد خدمت خلق، (۶)قائد ذہانت وصحت وصفائی۔
۵…خدام الاحمدیہ
یہ تنظیم عام باشندوں سے تعلق قائم کرتی ہے۔ اس کا دائرہ کار قصر ربوہ سے پاکستانی فوج تک وسیع ہے۔ یہ ملک کی وہ واحد تنظیم ہے جسے اس بات کی اجازت حاصل رہی ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی فوج میں ایک فوجی یونٹ منظم کرے اور اس کے وجود کو دوسروں کے وجود سے تسلیم کرائے۔ ’’فرقان بٹالین‘‘ بھی اسی سے تعلق رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس بٹالین کو بعد میں توڑ دیا گیا۔
۶…لجنۃ اماء اﷲ
یہ قادیانی خواتین کی انجمن کانام ہے۔
۷…اطفال الاحمدیہ وناصرات الاحمدیہ
یہ دونوں تنظیمیں قادیانی بچوں پر مشتمل ہیں۔ ایک دفعہ مرزاناصر نے ان بچوں کے ذریعے پچاس ہزار روپے جمع کرائے تھے۔ (المنبر لائل پور مورخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۶۷ئ) قادیانیوں کے اس تنظیمی ڈھانچے پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ صرف امت کے اندر امت ہی کی حیثیت نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ مذہبی لبادے میں ریاست کے اندر ریاست عملاً قائم کئے ہوئے ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سرکاری ملازمین اور قومی اور ملکی وسائل کے بے دریغ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال تقریباً ایک کروڑ روپے صرف کر رہی ہے۔ (انکوائری رپورٹ از ص۲۱۰،۲۱۱)
خارجہ حکمت عملی
قادیانی گروہ کی خارجہ حکمت عملی بھی ملک کی خارجہ پالیسی سے عملاً متصادم رہی ہے۔ جب تک سرظفر اﷲ خاں وزارت خارجہ پر براجمان رہے تو جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔ ان کے ماتحت سفارت خانے قادیانیت کی تبلیغ میں مصروف رہے اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ رہے۔
قادیانیوں کا یہودیوں کی ریاست اسرائیل میں مشن موجود ہے۔ درانحالیکہ اس نے