السلام کو مانتا ہے مگر محمدﷺ کو نہیں مانتا، یا محمدﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۱۰)
ان فتوؤں کے جواب میں قادیانیوں کو باربار سمجھایا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز فتوے جاری نہ کریں اور مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح غیرمسلم نہ قراردیں۔ کیونکہ مسلمان کلمہ گو ہیں، اہل قبلہ ہیں، سیرت رسول پر کما حقہ، عامل اور ارکان اسلام کے پابند ہیں۔ محض مرزاقادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ کیونکر غیرمسلم ہوسکتے ہیں؟ اور باربار اپیل کی گئی کہ ان فتوؤں کا شدید رد عمل آپ لوگوں کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ مگر یہ ساری اپیلیں اور مسلم اکابرین کی ساری کوششیں بے سود وبے نتیجہ ثابت ہوئیں اور مسلسل ایک صدی کی اشتعال انگیزیوں اور ہٹ دھرمیوں کا طبعی ولازمی ردعمل وہی رونما ہوا جس کا اندیشہ تھا۔
حکومت پاکستان کے جاری کردہ آرڈیننس کو ظلم قرار دینے والے قادیانیوں کا یہ مطالبہ سراسر احمقانہ ہے کہ وہ تو دنیا بھر کے کلمہ گو مسلمانوں کو غیرمسلم کہیں اور پھر ان سے یہ مطالبہ بھی کریں کہ وہ انہیں مسلمان تسلیم کر لیں۔ قادیانیوں کی یہ ہٹ دھرمی ناقابل فہم ہے کہ وہ تو اہل اسلام کو دائرہ اسلام سے خارج کریں اور پھر ان سے خود کو مسلمان منوالیں۔ چنانچہ قادیانیوں کی اسی منطق نے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکائی، لاکھوں کی املاک ضائع ہوئیں اور ہر طرف نفرت وتشدد کے شعلے بلند ہوئے۔ بالآخر حکومت پاکستان نے اس کا حل یہی ڈھونڈا کہ خود قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا جائے۔ اس آرڈیننس کے بعد عوام اور خصوصاً اہل اسلام نے امن وچین کا سانس لیا اور اس طرح یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے دبادیا گیا۔ مستقبل قریب میں اب اس کے دوبارہ سراٹھانے کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔
حکومت پاکستان کے اس آرڈیننس کے بعد قادیانی حضرات اپنے مسلمان ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ دیتے پھر رہے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کی طرح کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اﷲ