کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
اسی طرح حجاز ،پاکستان، افریقہ کے دوستوں کو بھی نکیر وتنبیہ سے نہیں چھوڑا، یقینا میرے بہت سے خطوط میں تنبیہیں ،نکیریں اور اعتراضات ملیں گے۔۔ میرے نزدیک جیسا کہ بعض معترضین کا اعتراض حضرات دہلی پر ہے کہ وہ معترضین کے اعتراض کو گوزشترسمجھتے ہیں ،میں ان سے زیادہ سمجھتا ہوں ۔ البتہ کسی بڑے سے بڑے شخص کے متعلق بھی میرے پاس کوئی شکایت پہنچی تومیں نے اس پر نکیر اور تنبیہ میں بھی کبھی کسر نہیں چھوڑی ‘‘۔ (جماعت تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات ص:۱و ۲) یہ ہے ہمارے تبلیغی اکابر وسرپرست کا طرز عمل جو کتاب وسنت کے عین مطابق ہے ،انہیں کے نقش قدم پر ہم کو چلنا چاہئے ۔ کوئی بھی دین کی خدمت انفرادی یااجتماعی طورپر انجام دی جائے اور کتنی ہی خلوص اور اچھے جذبہ سے کی جائے ،اداروں کی شکل میں یا تنظیم وتحریک کی شکل میں ،اصلاحات وتنبیہات کی ضرورت تو کبھی بھی اور کہیں بھی پیش آسکتی ہے ،اگر ایسا نہ ہوتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیوں فرماتے کہ میری امت میں ہروقت ایک جماعت ایسی ضروررہے گی جو حق کو غالب کرے گی ،احقاق حق وابطال باطل کرے گی اور ہرصدی میں اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو پیداکرے گا جو دین کونکھارکررکھ دے گا ،حق وباطل ،کھرے کھوٹے اور صحیح وغلط میں امتیاز کردے گا ۔ (ابوداؤد کتاب الملاحم) الحمدللہ ہر زمانہ میں ایسے علماء حق موجود رہے ہیں جنہوں نے یہ خدمت انجام دی ہے ،کتنی نامناسب بات ہوگی اگر دعوت وتبلیغ سے متعلق قابل اصلاح امور کی طرف اصحاب تبلیغ کو توجہ دلائی جائے تووہ اس کواِس کام کی مخالفت وبدخواہی پر محمول کریں یا اعتراض وطعن وتشنیع کا الزام دیں ،جب کہ ہمارے کام کا موضوع بھی منکرات پر نکیر اور قابل اصلاح باتوں کی اصلاح کرنا اور ان کو قبول کرنا ہے ،ایسی اصلاحات کو جو اپنو ں کی جانب سے خیروخواہی کے