کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
فرمایا، صحابہ کی ایک جماعت کو دینی تعلیم و تربیت کے لیے صفہ میں مقیم فرمایا، بہت سے آنے والے صحابہ اور وفود جو دین سیکھنے کی غرض سے آتے ان کو دین کی ضروری باتیں ارشاد فرماکر روانہ فرمادیا کہ اپنے علاقہ میں اس پیغام کو عام کرو۔ (مسلم شریف) حضرت صدیق اکبرؓ اور عمر فاروقؓ باوجودیکہ افضل الامت ہیں ، لیکن بہت کم موقعوں میں ان حضرات شیخین کو امیر لشکر یا کسی علاقہ میں داعی و مبلغ بنا کر روانہ کیا، کیونکہ ان کو اس سے بڑے مقصد اور ضرورت کے لیے اپنے پاس روک رکھا تھا، اس کے لیے جس صلاحیت کی ضرورت تھی وہ دوسروں میں نہیں تھی۔ اسی طرح آج بھی امت کے مختلف طبقات میں جس میں علماء و مشائخ اور مصنفین و مولفین ، مدرسین اہل علم اور ارباب افتاء وقضاء ، نظماء مدارس ، فارغ التحصیل طلبہ وغیرہ ہیں جو مختلف الاستعداد ہیں ، ان میں بہت سے ایسے دینی ضروری کاموں کو انجام دے رہے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کاموں کو صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انجام نہیں دے سکتے، ایسے لوگوں کے متعلق یہ امید لگانا اور کوشش کرنا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح دین کے ضروری کاموں کو جن کو وہ انجام دے رہے ہیں موقوف کرکے اس کام کے لیے وقت نکالیں ۔ یہ سراسر حماقت اور جہالت ہے، اسی کو تاہی کی اصلاح کے لیے حضرت مولانا الیاس صاحبؒ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اس کو پھر سے پڑھ لیجئے!اللہ کے راستہ میں نکلنے والوں کو یہ نیت بھی کرنا چاہئے ایک خط میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا یہ فقرہ تھا کہ: ’’مسلمان دوہی قسم کے ہوسکتے ہیں ، تیسری کوئی قسم نہیں ، یا اللہ کے راستہ میں خود نکلنے والے ہوں یا نکلنے والوں کی مدد کرنے والے ہوں ‘‘۔ فرمایا : بہت خوب سمجھے ہیں ، پھر فرمایا کہ نکلنے والوں کی مدد میں یہ بھی داخل ہے کہ لوگوں کو نکلنے پر آمادہ کرے، اور ان کو بتلائے کہ تمہارے نکلنے سے فلاں عالم کے