کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
وقت کے مشائخ اور بزرگوں سے نیازمندانہ تعلق رکھنے کا فائدہ فرمایا … اس دینی کام (تبلیغ دین اور اصلاح امت کی عوامی تحریک) کی طرف مجھے متوجہ کرنا اللہ تعالیٰ کی ایک خاص تائید ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مجھے کچھ ایسی خصوصیات حاصل تھیں کہ جن بعض اکابر کو میرے اس کام کے متعلق پوری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کچھ شکوک بھی ہوئے تو انہوں نے بھی میری وجہ سے سکوت اختیار کیا اور اپنے اختلاف رائے کو ظاہر نہیں فرمایا، میری وہ خصوصیات یہ ہیں : ایک تو یہ کہ میری نیازمندی کا تعلق اپنے زمانہ کے سب ہی بزرگوں سے رہا اور الحمدﷲ سب کی عنایات اور سب کا اعتماد مجھے حاصل رہا۔ دوسرے یہ کہ میرے والد ماجد ایک عالی مرتبہ اور متفق علیہ بزرگ تھے اور باہم بہت سے اختلافات رکھنے والے اہل دین کے مختلف طبقے اُن پر متفق تھے۔ تیسرے یہ کہ میرا خاندان ایک خاص اثر اور عزت و وجاہت رکھنے والا خاندان تھا۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبص:۱۲۳،ملفوظ:۱۶۲)علماء و مشائخ کی قدردانی اور احسان شناسی مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ تحریر فرماتے ہیں : شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ عمر میں چھوٹے ، رشتہ میں بھتیجے اور آپ کے (یعنی حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کے) شاگرد بھی ہیں ، ان کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : ’’گرامی نامہ موجب مسرت و عزت ہوا، آنعزیز کی تشریف آوری کا بے حد اشتیاق ہے، اگر بقول آپ کے میں حضرت ہوں تو آپ ماشاء اللہ حضرت گر ہیں ۔ مجھ نکمّے اور ناکارہ کو کون پوچھتا، اگر آپ کی توجہ اور کرم نہ ہوتا، حضرت (مولانا