کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
جذبہ سے ہوں ان کو مخالفت کا طعنہ دینے میں بدگمانی ،بہتان تراشی ،بدزبانی ،دوسرے کی تذلیل وتحقیر اور اس کو بدنام کرنے نیزحق بات کو قبول نہ کرنے ،اورتکبر جیسے کتنے گناہ کبیرہ کا ارتکاب لازم آتا ہے ،اس کے ساتھ ہی اپنے ہمدردوں اور محبین وخیرخواہوں کوبدخواہ سمجھ کر اپنے سے دور کرنا اور کام کو نقصان پہونچانا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ کتنی موٹی سی بات ہے کہ ایک سن رسیدہ تجربہ کار ماہر حافظ وقاری قرآن پڑھنے میں اگر غلطی کرجائے اور کوئی چھوٹا بچہ بھی اس کو ٹوک دے توبچے کے اس ٹوکنے کو کیا اعتراض اور مخالفت کہا جائے گااور قاری صاحب کو کیا اس کے لقمہ کو قبول کرنا واجب نہ ہوگا؟ ایک باپ اپنے بیٹے کی غلط باتوں اور حرکتوں پراس کو روک ٹوک کرتا ہے، اہل مدارس اور ان کے سرپرست واہل شوریٰ مدرسہ کی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی کرکے ان کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہیں ، مشائخ عظام خانقاہوں میں ہونے والی کوتاہیوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ان اصلاحی کوششوں کو بیٹے کی مخالفت، مدرسہ کی مخالفت ،خانقاہ کی مخالفت نہیں بلکہ عین شفقت وہمدردی اور ترقی وکامیابی کاذریعہ سمجھا جاتا ہے، پھر حضرات اہل علم جن کا منصبی فریضہ بھی یہی ہے اگر وہ دعوت وتبلیغ کے تعلق سے اصلاحی امور کی طرف توجہ دلائیں توان کی اصلاحات وتنبیہات کو اس کام کی مخالفت پر کیسے محمول کیاجاسکتا ہے ؟اور ان کا قبول کرنا کیوں واجب اور ضروری نہ ہوگا۔ دعوت وتبلیغ ،تعلیم وتدریس ،تزکیہ وتصوف سب کارنبوت میں سے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبلغ بھی تھے ،معلِّم بھی تھے ،مزکیّ بھی تھے ،قرآن وحدیث میں آپ کے یہ سارے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ،آپ کے بعدصحابہ انہیں کاموں کو انجام دیتے رہے ہیں ،اہل سنت والجماعت میں شمار کئے جانے والے جتنے بھی طبقات ہیں کسی نہ کسی نوعیت سے سب نے ان کاموں کو اختیار کیا اور انجام دیا ہے اور قرن اول یعنی عہد صحابہ سے لے کر آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ،یہ تینوں شعبے ہمارے ہیں ،تبلیغ بھی ہماری ہے،