کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
گا، اور نہ ہی اسلاف و مشائخ کا معمول نہ ہونے کی وجہ سے اس کو ترک کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ طریقہ خود کسی معصیت پر مشتمل نہ ہو، دینی مدارس کا نظام، گھنٹوں کے اعتبار سے اوقات کی تعیین بھی اسی قبیل سے ہے۔ یہ مطلب ہے مولانا الیاس صاحبؒ کے اس فرمان کا کہ یہ طریقہ تجربہ سے مفید ثابت ہے، لہٰذا اس کو اختیار نہ کرنا بڑی غلطی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ ایسے امور اور طریقے جو بمنزلہ وسائل کے ہیں جن کو شریعت میں احداث للدین سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ان کو وسائل کے درجہ ہی میں رکھا جائے گا ، ان کے ساتھ مقاصد اصلیہ، منصوص فی الشرع جیسا معاملہ نہ کیا جائے کہ بس یہ خاص طریقہ ہی مطلوب ہے اور جو اس خاص طریقہ سے منسلک نہ ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس کے بغیر نجات نہیں ، اس کے بغیر ایمان کامل نہیں ، دعوت وتبلیغ کے دسیوں طریقے ہیں ، خاص اسی طریقہ پر اصرار کرنا اور جو اس میں شریک نہ ہو اس سے بدگمان و بدزبان ہونا یا یہ سمجھنا کہ یہ دین کی خدمت نہیں کررہا حالانکہ دوسری نوعیت سے وہ دینی خدمات انجام دے رہا ہے، یہ بڑی غلط فہمی ہے، بدگمانی حرام اور گناہ کبیرہ ہے، وسائل کو مقاصد شرعیہ کا درجہ دینا شرعاً غلط اور باطل ہے، اسی کا نام غلو فی الدین ہے۔ اس لیے دونوں پہلوؤں کی رعایت ضروری ہے، منقول نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو اس کو بدعت کہہ سکتے ہیں اور وسائل میں سے ہونے کی وجہ سے نہ اس پر اصرار اور تارک پر نکیر اور ملامت کرسکتے ہیں ، یہ ہے اصل مسئلہ کی حقیقت ۔ ہذا ہو الحق عندی واﷲ اعلم۔مبادی کو غایات اور ذرائع و وسائل کو مقاصد کا درجہ دینا بہت بڑی غلطی ہے فرمایا ----- آج کل دین کے باب میں یہ غلط فہمی نہایت عام ہوگئی ہے کہ