کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
الیاس صاحبؒ کے فرمان کے مطابق کامل دین حاصل ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ تین باتیں نہ پائی جائیں ، علم و عمل اور اہل اللہ کی صحبت ، علم سے مراد بقدر ضرورت علم دین جو فرض عین کا درجہ رکھتا ہے، اور اسی علم کے مطابق عمل ہونا بھی ضرروی ہے، اور ساتھ ہی علم و عمل میں پختگی اور رسوخ کے لیے نیز باطنی کیفیت کو درست کرنے کے لیے علماء و مشائخ کی صحبت بھی ضروری ہے، شیطان جو گمراہ اور راندۂ درگاہ ہوا ہے اس کی وجہ بعض علماء نے یہی لکھی ہے کہ علم و عمل تو اس کے پاس تھا لیکن تزکیہ نفس نہ ہونے کی وجہ سے اس کی باطنی کیفیت درست نہ تھی اور دل میں عشق و محبت کی کمی تھی، اہل اللہ کی محبت و صحبت اور ان کی خدمت سے ایمان میں بھی پختگی ہوگی جو کہ عین مطلوب ہے اور یہ اوصاف بھی حاصل ہوں گے جو اوپر مذکور ہوئے۔ اسی لیے حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے اپنے تبلیغی حضرات کو اہل اللہ کی صحبت اور ان کی خدمت کی تلقین فرمائی ہے۔شیطان کے جال سے بچنا ہے تو بزرگوں کی ماتحتی اختیار کیجئے فرمایا: جو کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کے علاوہ چلے گا وہ شیطان کے پنجہ میں ہے، اس واسطے جس شخص کی زندگی کسی بزرگ کی ماتحتی میں نہیں ہے وہ شیطان سے بچ نہیں سکتا۔ (کیونکہ علماء و مشائخ اور بزرگان دین نبی کے وارث اور جانشین ہیں )۔ (ارشادات و مکتوبات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۸۱)اولیاء ومشائخ کے پاس اللہ واسطے جانا دین کا لُبِّ لُباب ہے ارشاد فرمایا: اولیاء اللہ کے پاس جانا خدا کے واسطے لُبِّ لُباب دین ہے۔ اس سے علم کے چشمے جاری ہوجائیں گے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۵۲) فائدہ: اس ارشاد میں حضرت مولانا الیاس صاحبؒ نے تمام حضرات کو