کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
کریں ، اور آئندہ جلسوں میں ان سب نمبروں میں ہمت اور پابندی اور بیدار مغزی کے ساتھ کوشش کرنے کی اللہ جل جلالہ سے کوشش کرتے رہا کریں ۔ فقط والسلام محمد الیاس عفی عنہ (مکاتیب مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۱۳۱)طبقاتی جوڑ کی اہمیت فائدہ: حضرتؒ کے مذکورہ بالا فرمان نمبر ۲ ، اور ۴ سے طبقاتی جوڑ کی ضرورت و اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے، اوراس کا مدار اصلاً حالات و ضرورت پر ہے، ضرورت کی بنا پر ہی آپ نے ہر ہر قوم کی الگ الگ جماعت بنانے کی ہدایت اور تاکید فرمائی ہے، جب حالات ایسے باقی نہ رہیں تو اس کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی، شریعت نے ضرورت و حالات کی بنا پر ہم کو اختیار دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام نے بھی بعض موقعوں پر ضرورت و حالات کے پیش نظر طبقاتی جوڑ کا اہتمام فرمایا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد تقسیم غنائم کے وقت خاص ضرورت کے تحت صرف انصار صحابہ کو جمع فرمایا، اور یہ اہتمام فرمایا کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہ ہو۔ ’’جمع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الأنصار فقال أفیکم أحدٌ من غیرکم؟ قالوا: لا‘‘۔ الخ (مسلم شریف : ۱؍۳۳۸) حضرت ابو موسی اشعریؓ نے ایک مرتبہ بصرہ کے صرف قرّاء و علماء کو دعوت دے کر ان کا جوڑ فرمایا چنانچہ ان کی دعوت پر ۳۰۰ قرّاء کا جوڑ ہوا، بعث أبو موسیٰ الاشعری إلی قراء أہل البصرۃ فدخل علیہ ثلات مائۃ رجلٍ قد قرؤا القرآن فقال أنتم خیار أہل البصرۃ، الخ۔ (مسلم ۱؍۳۳۵، باب کراہیۃ الحرص علی الدنیا) حضرت عمر فاروقؓ نے طاعون کے مسئلہ میں کہ جس جگہ طاعون پھیلا ہوا ہو وہاں سفر کرکے جانا چاہئے یا نہیں ، طبقاتی اعتبار سے اولاً مہاجرصحابہ پھرانصار صحابہ سے پھر مشائخ قریش سے علیحدہ علیحدہ مشورہ فرمایا۔ (بخاری شریف: ۲؍۸۵۳، مسلم :۲؍۲۲۹موطا :۳۶۱)