کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
مبادی کو غایات کا اور ذرائع کو مقاصد کا درجہ دے دیا جاتا ہے، اگر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ دین کے تمام شعبوں میں یہ غلطی گھس گئی اور ہزاروں خرابیوں کی یہ جڑ ہے۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۸۸-۱۰۹) تشریح: حضرتؒ نے نہایت اہم بات کی طرف توجہ دلائی اور تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دین میں دو قسم کی چیزیں مطلوب ہیں لیکن دونوں میں حیثیت کا فرق ہے، ایک اصل مقصود ہے اورایک اس کے حاصل ہونے کا ذریعہ، جن کو ذرائع اور مقاصد سے تعبیرکیا جاتا ہے، مقاصد کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعمال بذات خود شریعت میں مقصود ہیں ، اور وسائل وذرائع کا مطلب یہ ہے کہ اگر چہ شریعت نے ان کا بھی حکم دیا ہے لیکن ان کی کوئی خاص شکل و صورت متعین نہیں کی بلکہ ان کی حیثیت محض وسیلہ اور ذریعہ کی ہے یعنی اصل مقاصد تک پہنچنے اور حاصل ہونے کا ذریعہ، جیسے نماز، روزہ ، حج اور دیگر عبادات یہ مقاصد میں سے ہیں ، اسی غرض سے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور جہاد و قتال تبلیغ، خروج فی سبیل اﷲیہ مقاصد میں سے نہیں بلکہ ذرائع اور وسائل میں سے ہیں ، یعنی مقاصد کو زندہ کرنے کا ذریعہ ہیں ، حکم شریعت نے دونوں کا دیا ہے، لیکن دونوں کی نوعیتوں اور حیثیتوں میں فرق ہے، حضرتؒ فرمارہے ہیں کہ ذرائع کو مقاصد سمجھ لینا یا ذرائع کو مقاصد کا درجہ دینا اور مقاصد سے غافل ہوجانا اس میں کوشش نہ کرنا یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ جیسے کوئی جہاد اور تبلیغ کو کافی سمجھے اور اصل اعمال نماز، روزہ و دیگر معاملات کی طرف سے غافل ہو۔بجائے مسجد کے گھروں میں نوافل و عبادات کا اہتمام کرو فرمایا: مسجدوں کو نوافل کا گھر نہ بناؤ۔ (ارشادات ص:۹۱-۹۲) تشریح: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:گھروں میں نماز پڑھو، اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ (ترمذی شریف حدیث:۴۶۰، باب: ۲۱۶)