کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
باب ۴ ایمان کے ساتھ علم کا رشتہ قبول ایمان کے بعد پہلا مرحلہ طلب علم اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَجَاہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓـئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَۃَ اللّٰہِ۔ (سورہ بقرہ پ:۲) ترجمہ: بے شک جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستہ میں کوشش کی یہی لوگ رحمت کے امیدوار ہیں ۔ اول ایمان لانا، بعدہ طلب علم کے لیے ہجرت کرنا اور پھرکوشش کرنا یہاں تک کہ جان تک کاارادہ کرلیوے، بس دین اس طرح سے آتا ہے اس کے علاوہ نہیں آتا، اور دین قرآن سے آتا ہے قرآن والوں کو اس کے ماتحت زندگی گذارنی ہے۔ (ارشادات و مکتوبات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۵۰) تشریح: ایمان لانے کے بعد سب سے پہلا فریضہ جو آدمی پر عائد ہوتا ہے وہ علم دین کی طلب کا ہے، ایمان کے بے شمار درجات ہیں ، علم دین سیکھنے کا مطالبہ ایمان کے بلند درجات حاصل کرنے یعنی ایمان کو پختہ اور کامل کرلینے کے بعد نہیں ہے، بلکہ ایمان کا ادنیٰ درجہ جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہوتا ہے، اس کے بعد ہی حلال و حرام کے مسائل اور نماز و قرآن سیکھنے کا آدمی مکلف بن جاتا ہے، حدیثوں میں واقعات آئے ہیں کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان نو مسلم صحابہ کو قرآن پاک اور نماز سکھلائی، بہت سے