کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
دوسرے اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جس نوع کی بھی بدگمانیاں ان کے ذہنوں میں بیٹھی ہیں ، ان سب کو دور کرنے کی کوشش کی جائے، تاریخی پہلو سے بھی نیز رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت پر جو اعتراضات ہوں ان کو بھی دو ر کیا جائے۔ تیسرے اسلام اور اسلامی تعلیمات کے محاسن و خوبیاں خوب کثرت سے بیان کی جائیں ، اس مقصد کے لیے مختصر رسالے اور مضامین مختلف زبانوں میں شائع کئے جائیں ، مختصر چیزوں کی اشاعت زیادہ آسان ہوتی ہے۔ یہ سارے کام علماء محققین اور دینی مدارس و تحقیقی مراکز کے بغیر انجام نہیں پاسکتے، اس لیے ایسے علماء کا وجود بڑی نعمت ہے جو اس کام کو کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔سیاسی کام کرنے والے بھی قابل قدر و قابل شکر ہیں فرمایا … میں سیاسی کام کرنے والوں کا بھی ممنون ہوں انہوں نے گورنمنٹ کو اپنی طرف متوجہ کئے رکھا جس کی وجہ سے میں اطمینان سے اتنے دنوں اپنا کام کرسکا۔ آخر میں رخصت ہوتے وقت ان صاحب نے دُعا کی درخواست کی تو اس پر فرمایا: ’’حضرت ! ہر مسلمان کے لیے اس کی غیبت میں دعا کرنا در حقیقت اپنے لیے دعا کرنا ہے، حدیث میں ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کے لیے خیر وفلاح کی کوئی دعا کرتا ہے تو اللہ کے فرشتے کہتے ہیں ولک مثل ذلک، یعنی اے اللہ کے بندے یہی چیز اللہ تجھے بھی دے، پس ہر مسلمان کے لیے کسی بہتری کی دعا در حقیقت فرشتوں سے اپنے لیے دعا کرانے کی ایک یقینی تدبیر ہے‘‘۔ (ملفوظات ص:۱۳۹، ملفوظ نمبر:۱۵۹)