کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
تمام گناہ قہر خداوندی کا دروازہ ہیں منکرات پر نکیر کرنا اور گناہوں کو بند کرنے کی کوشش کرنا ہمارا کام ہے فرمایا: معصیت قہر کا دروازہ ہے۔ معصیت (گناہوں ) سے بچو، معصیت سے اللہ کا غضب آتا ہے۔ مکلف چاہے مرد ہو چاہے عورت، اپنے فرائض کے ترک سے موردِ لعنت وغضب الٰہی ہوتا ہے۔ سودی معاملہ کرنا خدا کی خدائی کے خلاف اقدام کرنے پر جراء ت کرنا ہے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۲۱-۲۷-۳۰-۳۲) تشریح: منکر، معصیت، گناہ سب ایک ہی چیز ہیں ، جس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا، خواہ فرائض اور واجبات کو چھوڑ کر ہو یا حرام و ناجائز کا ارتکاب کرکے، دونوں ہی صورتیں منکرات و معاصی کے دائرہ میں آتی ہیں اسی کے متعلق حضرتؒ مولانا محمد الیاس صاحبؒ فرمارہے ہیں کہ معصیت یعنی گناہ کے کام اور مختلف قسم کے منکرات حق تعالیٰ کے قہر اور عذاب کو لانے والے ہیں ، ان کی وجہ سے حق تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے اور ایسے لوگ لعنت کے مستحق اور حق تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوتے ہیں ، مثلاً ناچ، گانے، فحش اور بے حیائی و بے پردگی کی کثرت، سودی معاملات، ناجائز کاروبار، یہ سب منکرات اور معاصی میں سے ہیں ، ان کا مرتکب ہونا حق تعالیٰ سے بغاوت کرنا اور عذاب الٰہی کو دعوت دینا ہے، اس لیے تمام اہل ایمان کو خصوصاً اصحاب تبلیغ کو چاہئے کہ وہ اپنے ماحول و معاشرہ کا جائز لیں اور تمام قسم کے گناہ اور منکرات جو پھیلے