کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
اصول اور ترتیب و تدریج کے قائل تھے، لیکن جب کھلا ہوا منکر پیش آجاتا تو قطعاً مداہنت و رواداری (اور چشم پوشی ) کو گوارہ نہ کرتے۔ فَاِذَا تَعَدّٰی الْحَقّ لَمْ یَقُمْ لِغَضَبِہٖ شَیْء۔ پھر اس استقامت اور تورع (تقویٰ ) کا اظہار فرماتے جو ان کے اسلاف کرام ، مشائخ اور علماء راسخین کا شیوہ ہے۔ (دینی دعوت ص:۲۶۶)بذریعہ خط منکر پرنکیر حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے ایک منکر پر نکیر کرتے ہوئے ایک صاحب کو خط لکھا کہ: آپ نے (بچہ کے انتقال اور حادثہ ہوجانے پر) یوسف کو (ایسی) تحریر لکھی ، اس سے آپ کے رنج کا نہ ہونا ٹپکتا ہے، یہ شرعاً منکر ہے، رنج کی باتوں سے واقعی رنجیدہ ہونا یہ ان شاء اللہ تمہیں ضرور ہوگا لیکن رنج سے متاثر ہونے کا اظہار بھی ضروری ہے، حق تعالیٰ جیسے حالات بھیجیں ان کے مناسب تأثر اور اس کا اظہار آپ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ ضروری ہے۔ (اسی طرح ایک بچہ کی ولادت کے موقع پر انہیں بزرگ عالم کو لکھوایا) یہ حق تعالیٰ شانہ کی ایک نعمت عظمیٰ ہے جس پر دل سے خوش ہونا چاہئے، اور اگر حقیقی اور قلبی خوشی نہ ہو تو کم سے کم اظہار خوشی اگر چہ مصنوعی ہو، ہو نی چاہئے، اور شکرانہ میں بطور خوشی آنا چاہئے۔ (مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی دینی دعوت ص:۲۴۴)منکرات پر عملی نکیر حلیم (انٹر) کالج میں حضرت جی (مولانا محمد الیاس صاحبؒ )تصویر وں کے سبب اندر کمرہ میں نہیں گئے۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۳۹) تشریح: دعوت وتبلیغ کے دو اہم شعبے ہیں ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر یعنی اچھائیوں کو پھیلانا ، برائیوں اور گناہوں کے کاموں سے منع کرنا، پھر دعوت و تبلیغ یعنی امر