کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
اپنی نمازوں کو درست کیجئے! سیکھئے اورسنت کے مطابق ادا کیجئے! رسمی نماز منھ پر پھینک کر ماردی جاتی ہے ،نماز ترقیٔ روزگار ،وسعت رزق ،سب غموں کا علاج،لیکن بے سیکھے نہیں آسکتی۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒص۲۱) فائدہ: حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کایہ ارشاد ایک حدیث پاک کا مضمون ہے، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ نے طبرانی اور الترغیب کے حوالہ سے طویل حدیث نقل فرمائی ہے جس کے اخیر میں یہ مضمون ہے: ’’جو شخص نماز کو بری طرح پڑھے ، وقت کو ٹال دے، وضو بھی اچھی طرح نہ کرے، تو وہ نماز بری صورت سیاہ رنگ میں بددعاء دیتی ہوئی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے بھی ایسا برباد کرے جیسا تونے مجھے ضائع کیا، اس کے بعد وہ نماز پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منھ پر مار دی جاتی ہے‘‘۔ (فضائل نماز ،حدیث :۲ ، ملحقہ فضائل اعمال ص:۳۴۶) ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ آدمی ساٹھ برس تک نماز پڑھتا ہے مگرایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی کہ کبھی رکوع اچھی طرح کرتا ہے تو سجدہ پورا نہیں کرتا، سجدہ کرتا تو رکوع پورا نہیں کرتا۔ (فضائل نماز تشریح حدیث :۵ ص:۳۶۹) نماز کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ کام میں اخلاص سے یعنی اللہ کے واسطے ہی نماز پڑھی جائے اور نماز میں پڑھی جانے والی چیزیں مثلاً التحیات ، درود شریف وغیرہ خصوصاً قرآن پاک بالکل تجوید کے مطابق پڑھا جائے، کیونکہ عربی زبان میں معمولی غلطی سے بھی معنی بدل جاتے ہیں بلکہ کفریہ معنی ہوجاتے ہیں ، مثلاً قرآن پاک میں ہے ’’وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَاً شِدَاداً‘‘ (پ۳۰) اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ ہم نے سات آسمان بنائے، اب اگر بَیَنْنَا میں الف کو حذف کرکے بَنَیْنْ پڑھ دیا جائے تو ترجمہ ہوجائے گا ’’عورتوں نے سات آسمان بنائے‘‘ کیا یہ کلمۂ کفریہ نہیں ہے؟ عربی زبان شاہانہ زبان