کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
تاکہ اس کے ذریعہ اگلی منزل طے کرنا آسان ہو، اسی طرح ہماری یہ تبلیغ بھی دیگر علوم عالیہ، علوم شرعیہ کی تکمیل و تحصیل اور مدارس و خانقاہ کے لیے بمنزلہ وسیلہ اور ذریعہ کے ہے۔ اس مرحلہ میں قدم رکھنے اور قدم مضبوط ہوجانے کے ساتھ ہی مدارس اور خانقاہوں کی آبادی کی بھی فکر کرنا چاہئے اور اپنی حیثیت و وسعت کے مطابق مدراس و خانقاہوں سے ربط رکھتے ہوئے ان علماء و مشائخ اور اہل مدارس و خانقاہ سے یعنی علماء و مشائخ سے فائدہ اٹھانا چاہئے، تب ہی جاکر ان علوم سے پورا نفع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق نصیب فرمائے، بلا شبہ حضرتؒ کے اس فرمان پر عمل کیا جائے تو مدارس اور خانقاہیں کثرت سے آباد ہوجائیں ۔علوم سیکھنے کی ترتیب اور نصاب کا خاکہ فرمایا: بذریعہ امہات العقائد کے ، عقائد کو مضبوط کرنا، پھر عبادات، معاملات ، معاشرت، اخلاق کو درست کرنا۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۶۶) ترتیب علوم سیکھنے کی (یہ ہے:) فرض چیزوں کو معلوم کرنا، پھر ان کے اندرون فرائض وواجبات کو سیکھنا، اور پھر اور فرضوں میں بھی اہم فرض بعدہ دوسرا، تیسرا اور چوتھا بعدہٗ باقی تمام دین سیکھنا۔ سنت، نفل اور مستحب ہر عمل میں خلوص و خشوع کا سیکھنا، اللہ کو حاضر و ناظر رکھنے کی مشق کرنا، بذریعہ اعمال اس کی ذات و صفات کو پہچاننا۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۶۶) فائدہ: حضرت مولانا الیاس صاحبؒ نے تمام تبلیغی احباب اور تبلیغ سے منسلک حضرات کے لیے علم دین سیکھنے کا پورے نصاب کا خاکہ بیان فرمادیا ہے، اسی کے مطابق نصاب مرتب کرکے اس کو عمومی پیمانہ پرنافذ کرنا چاہئے، نصاب ایسا ہونا چاہئے (جیسا کہ حضرت نے فرمایا ہے) جس میں اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات سے متعلق ضروری مسائل بھی ہوں ، اسی طرح اس نصاب میں معاملات، تجارت بیع و شراء کے