کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ماحول رہا، کھانا کھلانے کا طریقہ بھی خلاف سنت، یہ سب چیزیں خود منکرات و معاصی میں شامل ہیں ، جن سے بچنا لازم ہے۔منکرات پر نکیرکا مناسب طریقہ خطاب خاص، خطاب عام کی تفصیل حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے فرمایا: ہماری اس دعوت وتبلیغ کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ: خطاب عام میں سختی برتی جائے لیکن خطاب خاص میں انتہائی نرمی بلکہ جہاں تک ہوسکے لوگوں کی اصلاح کے لیے خطاب عام ہی کیا جائے، حتی کہ اگر اپنے کسی خاص ساتھی کی کوئی غلطی دیکھی جائے تو حتی الوسع اس کی اصلاح کی کوشش بھی خطاب عام ہی کے ضمن میں کی جائے، یہی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا عام طریقہ تھا کہ خاص لوگوں کی غلطیوں پر تنبیہ بھی آپ ’’مابال أقوام‘‘ (لوگوں کا کیا حال ہوگیا جو ایسی حرکت کرتے ہیں ) کے عمومی عنوان سے فرماتے تھے، اور اگر خطاب خاص ہی کی ضرورت سمجھی جائے تو علاوہ محبت اور نرمی کے اس بات کا بھی لحاظ رہے کہ فوراً اس کو نہ ٹوکا جائے، ایسی صورت میں اکثر لوگوں کا نفس جواب دہی اور حجت بازی پر آمادہ ہوجاتا ہے، لہٰذا اس وقت کو تو ٹال دیا جائے پھر دوسرے مناسب وقت میں خلوص و محبت کے ساتھ اس کی غلطی پر اس کو متنبہ کیا جائے۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۸۴-۱۰۱)خطاب خاص میں نرمی اور خطاب عام میں سختی ایک صحبت میں فرمایا ----- تبلیغ کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عمومی خطاب میں پوری سختی ہو اور خصوصی خطاب میں نرمی، بلکہ حتی الوسع خصوصی اصلاح کے لیے بھی عمومی خطاب ہی کیا جائے، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاص افراد کا بھی کوئی جُرم