کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
ایسے منہمک رہتے ہیں کہ ان کے لیے وقت نکالنا دشوار ہوتا ہے کہ وہ بھی جماعت میں نکلیں ، اور روزانہ تم کو وقت دیں اور ان کے نہ نکلنے پر ان سے بدگمان ہونا، ان پر طعن کرنا اپنی ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔علماء کی زیارت و خدمت کس نیت سے کرنا چاہئے ایک بار فرمایا کہ: مسلمانوں کو علماء کی خدمت چار نیتوں سے کرنا چاہئے۔ (۱) اسلام کی جہت سے، چنانچہ محض اسلام کی وجہ سے کوئی مسلمان کسی مسلمان کی زیارت کو جائے یعنی محض حسبۃً ﷲ (ثواب کی نیت سے) ملاقات کرے، تو ستر ہزار فرشتے اس کے پاؤں تلے اپنے پر اور بازو بچھادیتے ہیں ۔ تو جب مطلقاً ہر مسلمان کی زیارت میں یہ فضیلت ہے تو علماء کی زیارت میں بھی یہ فضیلت (بدرجۂ اولیٰ) ضروری ہے۔ (۲) یہ کہ ان کے قلوب و اجسام حامل علومِ نبوت ہیں ، اس جہت سے بھی وہ قابل تعظیم اور لائق خدمت ہیں ۔ (۳) یہ کہ وہ ہمارے دینی کاموں کی نگرانی کرنے والے ہیں ۔ (۴) ان کی ضروریات کے تفقّد کے لیے، کیونکہ اگر دوسرے مسلمان ان کی دنیوی ضرورتوں کا تفقّد کرکے ان ضرورتوں کو پورا کردیں جن کو اہل اموال پورا کرسکتے ہیں تو علماء اپنی ضرورتوں میں وقت صرف کرنے سے بچ جائیں گے اور وہ وقت بھی خدمت علم و دین میں خرچ کریں گے، تو اہل اموال کو اُن کے اِن اعمال کا ثواب ملے گا۔ مگر عام مسلمانوں کو چاہئے کہ معتمد علماء کی تربیت اور نگرانی مین علماء کی خدمت کا فرض ادا کریں کیونکہ ان کو خود اس کا علم نہیں ہوسکتا کہ کون زیادہ مستحق امداد ہے کون کم (اور اگر کسی کو خود اپنے تفقّد سے اس کا علم ہوسکے تو وہ خود تفقّد کرے)۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۵۴ ملفوظ نمبر:۵۲) تمت بالخیر