کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
عنہ قال دخل رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ذات یوم المسجد فاذا برجل من الأنصار یقال لہ أبو أمامہ فقال یا أبا أمامۃ مالی أراک جالساً فی المسجد فی غیر وقت الصلوۃ ۔ (ابو داود باب فی الاستعاذۃ :۱۵۵۵) حدیثوں میں ایسے واقعات مذکور ہیں کہ آپ کی زندگی میں اہم واقعات پیش آئے کسوف وخوف ، سورج گہن کا موقع آیا بعض وفود آئے ان کی بدحالی کو دیکھ کر آپ رنجیدہ ہوئے حضرت بلال کو حکم دیا ، انہوں نے اعلان کیا یا اذان دی تو لوگ مسجد میں جمع ہوگئے، یعنی اس سے پہلے جمع نہ تھے بلکہ اعلان کے بعد جمع ہوئے پھر آپ نے وعظ فرمایا۔ (مسلم شریف وغیرہ) ان سارے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا معمول یہ نہ تھا اور نہ ہی یہ بات شرعاً مطلوب ہے، نہ مسجد کا حق لازم ہے کہ ہر وقت مسجد آباد رہے، لوگ وہاں ذکرو عبادت اورنوافل میں مشغول رہیں ، ہاں تعلیم و تعلّم کی غرض سے یا وعظ و نصیحت کی غرض سے، کسی وقت بھی لوگ مسجد میں قیام پذیر ہوسکتے ہیں ، جیسے مدارس کی مساجد میں طلبہ پڑھتے پڑھاتے نظر آتے ہیں ، ضرورت کے موقع پر صحابہ بھی ایسا ہی کرتے تھے، جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور آپ نے دو حلقوں کو دیکھا ایک تعلیم و تعلّم میں مشغول تھا، دوسرا ذکر و عبادت میں ، آپ نے دونوں کی تعریف فرمائی اور علم کے حلقے کو ترجیح دے کر اس میں بیٹھ گئے اور فرمایا: إنما بعثتُ معلماً۔(مشکوۃ شریف) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی اسی نوعیت پرمحمول ہے بس اتنی ہی حقیقت ہے اس عمل کی، واللہ اعلم۔رمضان المبارک میں نقل و حرکت کی اہمیت اللہ کی دہش رمضان میں پھرنے میں ہے، رمضان کو نیکیوں سے زیادہ معمور کرو، اس کی یہ مہمان داری ہے۔ (ارشادات ومکتوبات ص:۳۶)