کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
عمل کریں ،کیونکہ ہماری دعوت وتبلیغ کا موضوع ہی امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے اور اصلاح وتربیت اور تادیب و تنبیہ کا یہ کام بھی اسی دائرہ میں آتا ہے ۔ اس کام کے تعلق سے علماء کرام کی ہدایات وتنبیہات سے فائدہ نہ اٹھانے میں اپنا اور دین کا زبردست نقصان ہے اور ان کی اصلاحات وتنبیہات کو مخالفت پر محمول کرنا اور ان سے بدگمان یابدزبان ہونا یاقطع تعلق کرنا نہایت خطرہ اور ہلاکت کی بات ہے ،لیکن عموماً لوگوں کے مزاجوں میں غلو اور جہالت کی وجہ سے ایسی تنگ نظری پائی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی اصلاحی بات اور تنبیہ کو سننا گوارہ نہیں کرتے بلکہ اس کو مخالفت پر ہی محمول کرتے ہیں یہ چیز سب کے لئے بڑی نقصان دہ ہیں ۔ ہمارے اکابر خصوصاًشیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریاصاحب ؒ کا اس دعوت تبلیغ سے جو تعلق تھا اور اس سلسلہ میں ان کی جو قربانیاں ہیں وہ اہلِ نظر سے مخفی نہیں ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے دعوت وتبلیغ کے متعلق مختلف موقعوں پر جب کچھ اصلاحات وتنبیہات فرمائیں تو نادان حضرات ان کو بھی دعوت وتبلیغ کی مخالفت کا طعنہ دینے سے نہ چوکے ۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریاصاحب ؒ خود تحریر فرماتے ہیں : ’’میرے اکابر کی طرف سے جو بعض موقعوں پر بعض جزوی تنبیہات ہوئی ہیں ان کی وجہ سے ان اکابر کو جماعت تبلیغ کا مخالف قرار دے کر اب ہوا دی جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں بھی تبلیغی جماعت اور کارکنوں کی کوتاہیوں پر تنبیہات کرتارہتا ہوں ، بلکہ اپنی حماقت سے چچاجان (حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ) نوراللہ مرقدہ‘ کے دور میں ان پر بھی تنقید سے نہیں چوکتاتھا اور ان کے بعد عزیزانم مولانا یوسف ؒ اور انعام الحسن صاحب سلمہ‘ کے دور میں نہ ان محترم عزیزوں پر، بلکہ قدیم وجدید کارکنوں پر نکیر کرتارہا ہوں ، تحریراً بھی تقریراً بھی،