کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
کے لیے) جاہل کو عالم کے پاس جانا فرض ہے۔ اور اسی طرح جس قدر عالم جاہل سے بڑا ہے اسی قدر عالم کو جاہل سے ملنا، اور علم سکھانا فرض ہے، تو پھر جہالت علم سے بدل جائے گی۔ (ارشادات و مکتوبات ص:۷۶) فائدہ: علم سے مراد علم شرعی اور علم دین ہے، اللہ کے امروں سے مراد احکام شرعیہ اور مسائل فقہیہ ہیں ، مطلب یہ ہے کہ زندگی گذارنے کے لیے جس جس موقع پر حکم شرعی کو معلوم کرنے کی ضرورت ہو اس کا سیکھنا فرض ہے، خواہ معتبر کتابوں کو دیکھ کر یا علماء سے پوچھ کر، اس غرض کے لیے ضرورت کے وقت عالم کے پاس جانا بھی فرض ہوگا اور جس طرح جاہل کو عالم کے پاس طالب بن کر جانا فرض ہے اسی طرح عالم دین پر بھی فرض ہے کہ اس طالب کی قدر کرے، اس سے ملاقات کرے اور اس کو علم دین سکھلائے، اس طرح عوام و علماء کا باہمی ربط ہونے سے جہالت ختم ہوجائے گی، علم کی روشنی آئے گی، عوام اور علماء دونوں کو مل کر مشورے سے اجتماعی طور پر اس کا نظام بنانا چاہئے، اجتماعی طور پر نظام چلانے کے لیے جگہ کا انتخاب ، تنخواہ کا انتظام عوام پر ضروری ہوگا، اور وقت فارغ کرکے لوگوں کو دین سکھلانا یہ علماء کی ذمہ داری ہوگی۔ علم دین کے دو درجہ ہیں فرض کفایہ، فرض عین، فرض کفایہ، تو یہ جیسے پورا عالم، مفتی حافظ، قاری بننا، اتنی بڑی تعداد میں ہر وقت موجود ہونا چاہئے جس سے امت کی ضرورتیں پوری ہوسکیں ، اور قرآن و حدیث اوردوسرے علوم شرعیہ پورے طورپر محفوظ رہ سکیں ، دوسرے فرض عین، اس کا سیکھنا بقدر ضرورت ہر ایک پر فرض ہے، حضرتؒ نے اپنے اس ارشاد میں اس دوسری قسم یعنی فرض عین کے متعلق ہی فرمایا ہے۔تبلیغ و تعلیم کا ایک فرق ارشاد فرمایا: تبلیغ ہے بے طلبوں میں ، اور تعلیم ہے طالبوں کے لیے، تبلیغ