کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
نکلنے کا مقصد مسائل سیکھنے کے بعد ان کو عمل میں لانے کی کوشش کیجئے ارشاد فرمایا: ہر مسئلہ اپنے موقع پر (مثل) کلمۃ اللہ ہے، خواہ سونے کا ہو خواہ کھانے کا ہو، اپنے مقام پر (دعوت کی محنت) کرتے رہنا جو کچھ ہے وہ زمانہ تبلیغ میں اپنے اعمال کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ اسی طرح کئی دفعہ پھرنے کے بعد مسائل کو سیکھنے کا درجہ درست ہوگا، ورنہ اس سے پیشتر جو مسائل آجائیں گے ان پر عمل نہ ہوگا، وہ باعث لعنت و دوزخ کے ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمادیں گے جب کہ تم کو معلوم تھا (تم نے عمل) کیوں نہیں کیا؟ (ارشادات ومکتوبات ص:۷۱) تشریح: حضرتؒ کی مسئلہ سے مراد ہے ’’دین کی بات اور نبی کا طریقہ‘‘ خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاشرت اور عادات سے، ہر کام سنت اور نبی کے طریقہ کے مطابق ہونا چاہئے۔ حضرتؒ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ تبلیغ یعنی نکلنے کے زمانہ میں ان اعمال کی (یعنی اس بات کی کہ ہر کام ہمارا سنت کے مطابق ہونے لگے) خوب مشق کرنی اور عادت ڈالنی ہے، اپنے اعمال کو خوب مضبوط کرنا یعنی پختہ عادت ڈالنا ہے تاکہ واپس آکر اپنے مقام پر رہتے ہوئے اسی کے مطابق کام کرے اور محنت کرے۔ حضرت والا نے نہایت اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے ورنہ عام طور پر نکلنے کے زمانہ میں لوگ خوب محنت و مجاہدہ کرتے ہیں اورا پنے مقام پر آکر سست اور ڈھیلے پڑجاتے ہیں بلکہ بھول جاتے ہیں ، حضرت فرمارہے ہیں کہ یہ نکلنا اسی واسطے ہے کہ نکلنے