کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
علماء کرام سے عاجزانہ گذارش علماء کرام سے اور خصوصاً ان علماء کرام سے جو عملی طورپر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں اورتبلیغ میں کچھ وقت بھی لگاچکے ہیں ،نیز تبلیغ سے منسلک حضرات کا ان کو اعتمادبھی حاصل ہے ان سے اور اسی طرح ذمہ دارانِ تبلیغ،ارباب حل وعقد سے احقرکی عاجزانہ گذارش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نیز مولانا محمد الیاس صاحب ؒ کی بھی ہدایت کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اس دعوت وتبلیغ کے کام کی اور اصحاب تبلیغ کی سرپرستی ورہنمائی فرمائیں ،جتنی باتیں غلط یاغلو اور افراط وتفریط پر مشتمل اور راہ اعتدال سے ہٹی ہوئی ہیں مثلاًاس کام کی اہمیت اور فضائل کے تعلق سے بیان کئے جانے والے بہت سے ایسے واقعات و مستدلات اور بہت سی بیان کی جانے والی ایسی حدیثیں جن کا حدیث کی معتبر کتابوں میں کوئی وجودنہیں ،تحقیق کے بعد ان پر روک ٹوک اور مناسب اصلاح کی کوشش فرمائیں ،وہ قبول کریں یانہ کریں ہم کو اپنی ذمہ داری نبھانا چاہئے کیونکہ یہ ہمارا منصبی فریضہ ہے۔ ایمان ویقین پر محنت کرنے اور اس کو بنانے کے عنوان سے اس وقت تبلیغی جماعت کی برکت سے وسیع پیمانے پر دن رات سارے عالم میں جس انداز سے محنت ہورہی ہے گذشتہ صدیوں میں شاید اس کی نظیر نہ ملے گی ،لیکن کمال ایمان کا معیار کیا ہے ؟کامل ایمان والوں کے اوصاف کیا ہیں ،وہ کون سے اعمال واخلاق اور عادات ہیں جن کے بغیر آدمی کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا ،اس کے لئے علماء کرام کی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ قرآن وحدیث میں مختلف موقعوں میں بہت سے اعمال واوصاف کا تذکرہ کیاگیاہے اور اس کے بعد کہا گیا ہے اُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُؤمِنُوْنَ حَقَّا۔ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَاُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْن۔اُوْلٰئِکَ ہُمُ الْوَارِثُوْن۔اُوْلٰئِکَ ہُمُ