کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
اب رہی یہ بات کہ رب العالمین کے احکام کیا ہیں ، قرآن پاک میں کون سے مضامین بیان کئے گئے ہیں ، ہم کو اس کا علم کیسے ہو؟ اگر اللہ نے صلاحیت دی ہے اور خود مطالعہ کرسکتے ہیں تو معتبر تفسیروں کے مطالعہ کے ذریعہ احکام معلوم کریں ورنہ علماء کرام کے واسطہ سے درس قرآن وغیرہ کے ذریعہ ان کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ (۳) قرآن پاک کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس میں حق تعالیٰ کی جو صفات اور قدرت الٰہیہ کے تذکرے ہیں نیز انبیاء علیہم السلام کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کو بھی مستحضر رکھے اور ان مضامین کو بار بار پڑھے، یا سنے تاکہ ایمان میں اضافہ و پختگی اور کمال پیدا ہو، لیکن یہ بات بھی اسی طرح حاصل ہوگی کہ یا تو خود معتبر تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کرے یا درس قرآن وغیرہ کا نظام بنائے اور اس میں حق تعالیٰ کی صفات اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کو بغور سنے، یہ فرمان ہے مولانا محمد الیاس صاحبؒ کا۔ افسوس کہ امت اور اصحاب تبلیغ بھی حضرت کے اس فرمان سے غافل ہیں ۔مدارس قائم کیجئے خانقاہیں آباد کیجئے! فرمایا: میواتیوں سے (جو بڑی حد تک تبلیغی کام سے مانوس اور پرانے ہوچکے تھے اس سے فرمایاکہ) تم اپنے ملک کے اندر سومکتبوں کے درمیان ایک عربی مکتب اور خانقاہ کا ارادہ فرماؤ۔ چوبیس گھنٹہ وہ کام جو خانقاہوں اور مدارس میں ہوتا ہے ،کرنا ہے اور اسی میں کچھ وقت لوگوں میں دعوت دینے میں ۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص۸۱،۸۲) فائدہ:حضرت ؒ کے پیش نظر یہ تھا اور دعوت وتبلیغ کے ذریعہ وہ لوگوں میں یہ فکر پیدا کرنا چاہتے تھے کہ نبیوں والے سارے کاموں کو زندہ کیا جائے اور ’’جمیع ماجاء بہ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ یعنی تمام وہ باتیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم