کارکنان تبلیغ کے لیے مولانا محمد الیاس صاحب کی مفید باتیں اور اہم ہدایاتت |
عوت وتب |
|
(۲) مواساۃ: یعنی غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی کا برتاؤ کرنا مثلاً وہ محتاج ہے، تو اس کی حاجت پوری کرنا پڑوسی ہے، تو اس کی خبر گیری کرنا، وہ پریشان حال ہے تو اس کی مدد کرنا، اس کو قرض دینا، بیمار ہے تو اس کی عیادت کرنا، پڑوسی ہونے کی بنا پر اس کو ہدیہ دینا یہ سب بھی جائز اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت ہے نیز صحابۂ کرام کا اس کے مطابق عمل بھی رہا ہے۔(۳) مداراۃ: اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں کا کوئی معزز شخص ہمارے پاس آئے یا اس سے کبھی سابقہ پڑے، خواہ وہ کوئی بھی ہو مثلاً سیاسی لیڈر، افسر، حاکم، عہدیدار، حضور پاک کا فرمان ہے جب کسی قوم کا معزز شخص تمہارے پاس آئے تو اس کا اکرام کرو۔(۴) موالاۃ: کا مطلب ہوتا ہے غیر مسلموں سے قلبی دوستی ، دلی میل ومحبت کہ ان کو اپنار ازدار بنالے، ان کے مذہبی امور اور تہواروں شریک ہونے لگے، کفر و اسلام اور کافر و مومن کی تفریق ختم کردے، یہ ناجائز اور حرام ہے قرآن پاک میں مختلف موقعوں میں اسی کی ممانعت آئی ہے۔کیونکہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ رفتہ رفتہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے، دھیرے دھیرے غیر شعوری طور پر تمہارے اندر بھی کفر و شرک سرایت کرجائے گا اور تم کو پتہ بھی نہ چلے گا۔غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ سے متعلق حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کا جذبہ مولانا احتشام الحسن کاندھلویؒ جو حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کے معتمد بھی تھے اور شروع سے رفیق سفر اور صاحب علم بھی، وہ تحریر فرماتے ہیں : حضرت اقدس رحمۃ اللہ علیہ دین کے محض بعض شعبوں کو نہیں ؛ بلکہ پورے دین کو دنیا میں پھیلانا چاہتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرامؓ کی زندگی کا پورا نقشہ